امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد گوگل نے امریکا میں اپنے صارفین کے لیے نقشوں پر اس جھیل کا نام ’لیک امریکا‘ کر دیا ہے، جبکہ کینیڈا میں صارفین کو یہ اب بھی ’لیک اونٹاریو‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔
گوگل نے وضاحت کی ہے کہ وہ سرکاری ذرائع میں ہونے والی جغرافیائی ناموں کی تبدیلیوں کے مطابق گوگل میپس کو اپ ڈیٹ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھ دیا، مصنوعی ذہانت سے تیار ویڈیو بھی جاری
امریکی صارفین کو اب ’لیک امریکا‘، کینیڈین صارفین کو ’لیک اونٹاریو‘ جبکہ امریکا اور کینیڈا سے باہر موجود صارفین کو دونوں نام دکھائی دیں گے۔
جھیل اونٹاریو کا نام 17ویں صدی سے رائج ہے اور اس کی جڑیں مقامی مقامی باشندوں کی تاریخ و ثقافت سے منسلک ہیں۔
Google announced on Saturday that it had begun rolling out changes to how its maps display Lake Ontario's name, after President Trump signed an executive order changing it to "Lake America" amid a trade fight between the U.S. and Canada. pic.twitter.com/2JoxuzfSEj
— CBS News (@CBSNews) August 30, 2026
جھیل کے نام کی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر رہے ہیں۔
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ڈگ فورڈ نے امریکی ٹی وی پروگرام ’دِس ویک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’انتہائی پسماندہ سوچ‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’لیک اونٹاریو، اب اور ہمیشہ‘، ٹرمپ کی نام بدلنے کی کوشش پر کینیڈا کا جھیل کے کنارے دوٹوک جواب
ان کے بقول جب ٹرمپ نے دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے جھیل کا نام ’لیک امریکا‘ کیا تو یہ منظر امریکی مزاحیہ پروگرام ’سیٹرڈے نائٹ لائیو‘ کے کسی خاکے جیسا لگ رہا تھا۔
’کوئی بھی اسے لیک امریکا نہیں کہے گا، یہ انتہائی مایوس کن ہے۔‘
ڈگ فورڈ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے ممکنہ نقصانات پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات دونوں ممالک پر پڑیں گے، تاہم امریکا کو اس سے زیادہ شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Ontario Premier Doug Ford unveiled a large Lake Ontario sign saying the lake's centuries-old name would not change after the US President Donald Trump renamed it ‘Lake America’ for US federal use https://t.co/CW8ejs3thx pic.twitter.com/Vq3Whgkmhc
— Reuters (@Reuters) August 29, 2026
ان کے مطابق کینیڈا امریکی گاڑیوں کا اب تک سب سے بڑا خریدار رہا ہے اور اگر کینیڈین خریداری کم ہوگئی تو امریکی گاڑیوں کے کارخانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا پر عائد کیا جانے والا ٹیرف دراصل امریکی عوام پر ٹیکس ہے اور یہ شاید سب سے بدترین اقدام ہے جو کیا جا سکتا ہے۔
امریکا اور کینیڈا کی گاڑیوں کی صنعتیں ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں اور امریکی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے متعدد پرزے کینیڈا میں تیار ہوتے ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کینیڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اب اپنی گاڑیاں خود بنانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا برسوں سے ہمارا استحصال کرتا رہا ہے، اب ایسا نہیں ہوگا۔
جھیل اونٹاریو 5 عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے اور یہ امریکا کی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں خلیج میکسیکو کا نام یکطرفہ طور پر تبدیل کرکے ’گلف آف امریکا‘ رکھنے کا اعلان بھی کیا تھا، جسے میکسیکو نے مسترد کر دیا تھا۔
ایپل میپس پر اتوار کی صبح تک جھیل کے لیے ’لیک امریکا‘ کا نام دکھائی نہیں دے رہا تھا۔












