جغرافیائی ناموں کی جنگ، گوگل میپس پر جھیل اونٹاریو کے مختلف نام

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد گوگل نے امریکا میں اپنے صارفین کے لیے نقشوں پر اس جھیل کا نام ’لیک امریکا‘ کر دیا ہے، جبکہ کینیڈا میں صارفین کو یہ اب بھی ’لیک اونٹاریو‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔

گوگل نے وضاحت کی ہے کہ وہ سرکاری ذرائع میں ہونے والی جغرافیائی ناموں کی تبدیلیوں کے مطابق گوگل میپس کو اپ ڈیٹ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھ دیا، مصنوعی ذہانت سے تیار ویڈیو بھی جاری

امریکی صارفین کو اب ’لیک امریکا‘، کینیڈین صارفین کو ’لیک اونٹاریو‘ جبکہ امریکا اور کینیڈا سے باہر موجود صارفین کو دونوں نام دکھائی دیں گے۔

جھیل اونٹاریو کا نام 17ویں صدی سے رائج ہے اور اس کی جڑیں مقامی مقامی باشندوں کی تاریخ و ثقافت سے منسلک ہیں۔

جھیل کے نام کی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر رہے ہیں۔

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ڈگ فورڈ نے امریکی ٹی وی پروگرام ’دِس ویک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’انتہائی پسماندہ سوچ‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: ’لیک اونٹاریو، اب اور ہمیشہ‘، ٹرمپ کی نام بدلنے کی کوشش پر کینیڈا کا جھیل کے کنارے دوٹوک جواب

ان کے بقول جب ٹرمپ نے دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے جھیل کا نام ’لیک امریکا‘ کیا تو یہ منظر امریکی مزاحیہ پروگرام ’سیٹرڈے نائٹ لائیو‘ کے کسی خاکے جیسا لگ رہا تھا۔

’کوئی بھی اسے لیک امریکا نہیں کہے گا، یہ انتہائی مایوس کن ہے۔‘

ڈگ فورڈ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے ممکنہ نقصانات پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات دونوں ممالک پر پڑیں گے، تاہم امریکا کو اس سے زیادہ شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کے مطابق کینیڈا امریکی گاڑیوں کا اب تک سب سے بڑا خریدار رہا ہے اور اگر کینیڈین خریداری کم ہوگئی تو امریکی گاڑیوں کے کارخانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا پر عائد کیا جانے والا ٹیرف دراصل امریکی عوام پر ٹیکس ہے اور یہ شاید سب سے بدترین اقدام ہے جو کیا جا سکتا ہے۔

امریکا اور کینیڈا کی گاڑیوں کی صنعتیں ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں اور امریکی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے متعدد پرزے کینیڈا میں تیار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کینیڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اب اپنی گاڑیاں خود بنانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا برسوں سے ہمارا استحصال کرتا رہا ہے، اب ایسا نہیں ہوگا۔

جھیل اونٹاریو 5 عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے اور یہ امریکا کی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں خلیج میکسیکو کا نام یکطرفہ طور پر تبدیل کرکے ’گلف آف امریکا‘ رکھنے کا اعلان بھی کیا تھا، جسے میکسیکو نے مسترد کر دیا تھا۔

ایپل میپس پر اتوار کی صبح تک جھیل کے لیے ’لیک امریکا‘ کا نام دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp