پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کو تو تقسیم کردیا جائے اور باقی صوبوں کو دیکھا تک نہ جائے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہاکہ میں بڑی صاف بات کرتا ہوں، چھوٹے صوبوں کا حامی ہوں، لیکن جو بھی ہوگا سب کے ساتھ ہوگا۔
مزید پڑھیں: نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی
انہوں نے کہا کہ پنجاب بہت بار تقسیم ہوا ہے، اب بھی اس کے لیے تیار ہے، لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے۔
میں چھوٹے صوبوں کا حامی ہوں،لیکن جو ہوگا سب کیساتھ ہوگا،بلوچستان کا وزیر اعلیٰ نکلتا ہے اسے دو دن واپس آنے میں لگتے ہیں،سندھ کے آخر پر بیٹھا آدمی کراچی جا ہی نہیں سکتا،ٹکرے کریں سب کے کریں،خواجہ سعد رفیق pic.twitter.com/xvPp22AbqZ
— Ali Raza Shaaf (@AliRazaShaaf) September 5, 2026
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کا وزیراعلیٰ نکلتا ہے تو اسے واپس آنے میں 2 دن لگتے ہیں، جبکہ سندھ کے آخر پر بیٹھا شخص کراچی جا ہی نہیں سکتا۔
قبل ازیں اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر ازسرنو غور کی ضرورت ہے تاہم کوئی بھی اقدام آئین سے ماورا نہیں ہوگا۔
قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کسی نے ہمیں یہ اختیار نہیں دیا کہ ہم کسی بھی طریقے سے کوئی غیر آئینی اقدام کریں، ہم سب آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا چکے ہیں اور کسی صورت غیر آئینی اقدام نہیں ہونے دیں گے، تاہم آئین کے اندر رہتے ہوئے ہمارے پاس بہت سے اختیارات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو یہ بننے چاہییں اور اگر عوام نہیں چاہتے تو فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ فیصلہ نہ کسی ایک شخص کا ہے، نہ حکومت کا اور نہ کسی ایک سیاسی جماعت کا، عوام کی رائے کو مقدم رکھنا ہوگا۔














