اسلام آباد ہائیکورٹ: سانحہ پمز پر جوڈیشل انکوائری کی درخواست زیرِ سماعت کیس کے ساتھ یکجا، وزیراعظم کو پیش رپورٹ طلب

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے کی جوڈیشل انکوئری کے لیے شہری منیر احمد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسے پہلے سے زیرِ سماعت کیس کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو کیس میں تفصیلی جواب اور وزیراعظم کو پیش کی جانے والی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالتی کارروائی اور اہم احکامات

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل آصف جدون نے روسٹرم پر آ کر نوٹس وصول کیا۔ چیف جسٹس نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس کیس کو بھی دیکھیں کیونکہ اس طرح کی درخواست پر عدالت پہلے ہی آرڈر جاری کر چکی ہے اور یہ معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے، اس لیے اسے بھی مرکزی کیس کے ساتھ یکجا کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ پمز اسپتال اب محفوظ ہے اور مستقبل میں کوئی حادثہ نہیں ہوگا، مصطفیٰ کمال

درخواست گزار کے وکیل کے دلائل

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے پیش ہو کر عدالت کو آگاہ کیا کہ گزشتہ سال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے اس حساس معاملے پر وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے تھے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین امجد خان کی اس تحریر اور سفارشات کے باوجود نہ تو کوئی عملی اقدام کیا گیا اور نہ ہی ذمہ داران کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کی رپورٹ اور عدم اقدام پر سوالات

وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے کی مکمل رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس منگوا لیتی ہے جس کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ عدالت نے وفاق سے جواب طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ قائمہ کمیٹی صحت کی گزشتہ سال کی رپورٹ پر اب تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

یہ بھی پڑھیے پمز آتشزدگی واقعہ: وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہ دینے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام متعلقہ رپورٹس اور جوابات طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp