وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز واقعے پر استعفے سے متعلق بات کرنے سے وزیراعظم نے منع کیا ہے، اس معاملے میں میری ان کے ساتھ کچھ کمٹمنٹس ہیں۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاکہ پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی اموات کے واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 8 افراد اور ایک سیکیورٹی کمپنی کو ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی طور پر آگ لگنے کی پہلی وجہ کا تعین فرانزک ٹیسٹ کے بعد ہی ہو سکے گا۔
مزید پڑھیں: پمز اسپتال واقعہ ایک حادثہ، وزیراعظم اور وزیر کا کام ایک اسپتال کو دیکھنے کا نہیں ہونا چاہیے، مصطفیٰ کمال
انہوں نے پمز کہاکہ وہ ان 14 بچوں کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں افسوس ہے کہ ان کے دور میں یہ واقعہ پیش آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ریٹائرڈ سیکریٹری داخلہ شاہد خان کررہے ہیں جبکہ کمیٹی میں مزید ماہر افراد بھی شامل ہیں۔
وزیر صحت کے مطابق کمیٹی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جس شخص کو چاہے طلب کرے، اس کا انٹرویو کرے اور تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں سے تعاون حاصل کرے۔ کمیٹی کے پاس ڈیجیٹل معلومات، تمام ریکارڈ، ویڈیوز اور عینی شاہدین کی معلومات بھی موجود ہیں، جبکہ تکنیکی معاونت کے لیے دیگر اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے 8 افراد اور ایک سیکیورٹی کمپنی کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، ان 8 افراد کو معطل کرکے ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی بات کی گئی ہے جبکہ 2 افراد کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے اور مزید 2 ماہ تک ان کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی۔
’ انکوائری رپورٹ میں بڑے افسران بھی ذمہ دار قرار دیے گئے‘
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ پاکستان میں عام طور پر انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس پر سوالات اٹھتے ہیں اور کئی مرتبہ ان رپورٹس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، تاہم پمز سانحے کی ابتدائی رپورٹ میں تمام ملبہ چھوٹے عملے پر نہیں ڈالا گیا بلکہ وہ افراد بھی کارروائی کی زد میں آئے ہیں جو 20، 20 سال سے وہاں کام کررہے ہیں اور بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ اور اس کی سفارشات کے مطابق ہی بات کریں گے کیونکہ کمیٹی کے پاس ان کے مقابلے میں زیادہ معلومات اور شواہد موجود ہیں۔
’استعفے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال کا جواب دینے سے گریز‘
وزیر صحت نے اپنے استعفے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس معاملے میں ان کی وزیراعظم کے ساتھ کچھ کمٹمنٹس ہیں اور وزیراعظم نے انہیں اس حوالے سے گفتگو نہ کرنے کا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اور وزیراعظم کے درمیان کا معاملہ ہے، اس لیے وہ نہ تو ہاں میں جواب دے رہے ہیں اور نہ ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر انکوائری کمیٹی ان سے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے تو انہیں اس معاملے میں سرپرائز ملے گا۔
’پمز کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا‘
پمز اسپتال کو مستقبل میں کسی اور سانحے سے محفوظ بنانے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہاکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پمز اسپتال اب مکمل طور پر محفوظ ہے اور مستقبل میں کوئی حادثہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ حکومت پہلے سے بھی اس معاملے پر کام کررہی تھی، تاہم سانحہ پیش آنے کے بعد کام مزید جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک دن کا کام نہیں ہے اور کسی بھی وقت یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اب کوئی سانحہ پیش نہیں ہوگا۔
وزیر صحت نے کہاکہ جن لوگوں کی ذمہ داری ہے اور جن کے پاس معلومات اور اختیارات ہیں، انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ ان کے بقول پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص کے اوپر ایک اور شخص کی نگرانی کے لیے ڈیوٹی لگانا پڑتی ہے۔
’سرکاری اسپتالوں میں کنٹریکٹ ملازمین کا نظام ہونا چاہیے‘
مصطفیٰ کمال نے سرکاری اسپتالوں کے موجودہ انتظامی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری اسپتالوں میں سرکار کے پے رول پر کام کرنے والے افراد نہیں ہونے چاہییں بلکہ کنٹریکٹ ملازمین ہونے چاہییں۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایسے ملازمین کو مناسب معاوضہ دیا جائے، جزا و سزا کا مؤثر نظام قائم کیا جائے، سی ای او مقرر کیا جائے اور بورڈ بنایا جائے، جبکہ جو شخص کام نہ کرے اسے فوری طور پر فارغ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں کسی ملازم کو فارغ کرنے کے لیے شوکاز نوٹس، معطلی اور پھر برطرفی سمیت ایک طویل طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
’پمز سانحے کی پہلی چنگاری سے پورے کمرے میں آگ تک 120 سیکنڈ لگے‘
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پمز سانحے کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پہلی چنگاری سے پورے کمرے میں آگ پھیلنے تک کا دورانیہ مجموعی طور پر 120 سیکنڈ یعنی 2 منٹ تھا۔
انہوں نے کہاکہ انہوں نے ابتدائی طور پر جو معلومات حاصل کی تھیں ان کے مطابق بھی قریباً ایک سے سوا منٹ میں یہ تمام واقعہ پیش آیا، جبکہ کمیٹی نے ویڈیو اور دیگر شواہد دیکھنے کے بعد اس دورانیے کو 2 منٹ قرار دیا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی ابھی تک یہ تعین نہیں کر سکی کہ پہلی آگ لگنے کی وجہ کیا تھی۔ آیا اے سی میں آگ لگی، کنکشن میں مسئلہ ہوا، شارٹ سرکٹ ہوا، انکیوبیٹر میں کوئی خرابی ہوئی یا دیگر ممکنہ وجوہات میں سے کوئی وجہ تھی، اس کا تعین فرانزک ٹیسٹ کے ذریعے کیا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ فرانزک ٹیسٹ میں وقت لگے گا اور اس کے بعد ہی آگ لگنے کی حتمی وجہ سامنے آئے گی۔
’سانحہ پمز پر سیاست نہیں، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا‘
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ پمز سانحے کے معاملے پر حکومت، اپوزیشن، میڈیا اور تمام متعلقہ لوگوں کو صحیح کام کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی یہ سوال اٹھائے کہ فلاں شخص کس پارٹی سے تعلق رکھتا تھا یا فلاں افسر کو کیوں ہٹایا گیا۔ اگر کوئی شخص ذمہ دار ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ذمہ داری کا تعین ہونا ہے تو ان سے شروع کیا جائے۔
’میں نے پہلے دن کہا تھا، مجھ سے شروع کریں‘
وفاقی وزیر صحت نے کہاکہ جب پمز سانحہ پیش آیا تو وہ کراچی میں تھے اور پہلی فلائٹ سے اسلام آباد پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قریباً 3 بجے براہ راست پمز پہنچے اور سب سے پہلے عوامی سطح پر یہ بات کی کہ وہ ذمہ دار ہیں اور ان سے احتساب شروع کیا جائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ انہوں نے سینیٹ کے فلور پر بھی کہاکہ وہ ذمہ دار ہیں اور قومی اسمبلی میں بھی یہی بات کی کہ اگر احتساب ہونا ہے تو مجھ سے شروع کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ اگر وہ ذمہ دار ہیں تو انہیں بھی نہیں چھوڑا جانا چاہیے، اسی لیے تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔
’میرا استعفیٰ تیار ہے، مگر حادثات پر وزرا کے استعفے کا قانون بنایا جائے‘
استعفے کے معاملے پر مصطفیٰ کمال نے کہاکہ اگر پارلیمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہو تو وہ وزیر کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئین اور قانون میں یہ طے کر دیا جائے کہ آئندہ کسی بھی حادثے کی صورت میں متعلقہ وزیر استعفیٰ دے گا تو وہ سب سے پہلے اپنا استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ریل گاڑی کا حادثہ ہو تو وزیر مواصلات استعفیٰ دے، اگر جہاز گرے تو متعلقہ وزیر استعفیٰ دے، اگر گٹر میں بچے گر کر جاں بحق ہوں تو میئر اور وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں، اور اگر غلط سرنج لگنے سے ایچ آئی وی پھیل جائے تو صوبائی وزیر صحت اور وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر ایسا قانون بنا دیا جائے تو وہ تیار ہیں اور اس عمل کا آغاز ان سے کیا جائے، چاہے وہ قصوروار ہوں یا نہ ہوں۔
پمز سانحے میں ایک بچی کو بچانے والی نرس کو وزیراعظم کی جانب سے ایک کروڑ روپے اور تمغۂ خدمت دیے جانے کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ معاملہ پمز سانحے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارشات اور فائنڈنگز میں شامل ہے، اس لیے اس پر مزید بات نہیں کرنی چاہیے۔
’عمران خان کو پمز لانے سے متعلق سوال‘
عمران خان کو پمز لانے کی کوشش اور اس دوران اسپتال کی سیکیورٹی سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہاکہ جس حوالے سے شفا اسپتال اور پمز کی سیکیورٹی کی بات ہو رہی تھی، شاید وہاں کراؤڈ جمع تھا، تاہم انہیں اس بارے میں مکمل علم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کے حوالے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی ایک جگہ حادثہ نہیں ہوگا۔ حادثات کہیں بھی ہو سکتے ہیں، شارٹ سرکٹ کسی بھی جگہ ہو سکتا ہے اور دنیا کے بڑے ممالک میں بھی آگ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی لوگ کئی گھنٹوں تک اپنے رشتہ داروں کو فون کرتے رہے اور بتاتے رہے کہ وہ زندہ ہیں، لیکن انہیں باہر نہیں نکالا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی اسپتال یا عمارت کو 100 فیصد محفوظ یا مکمل طور پر غیر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بلاول بھٹو کے بیان اور شادی کے سوال سے متعلق لاعلمی کا اظہار
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پمز سانحے سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کی شادی کا ذکر کیے جانے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ان کی اپنی رائے ہے اور انہیں معلوم نہیں کہ بلاول بھٹو نے کیا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بلاول بھٹو کے بیانات کو فالو نہیں کرتے اور انہیں اس بات کا علم نہیں کہ شادی کے حوالے سے کیا گفتگو ہوئی۔
وزیر صحت نے کہاکہ پمز سانحے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ان کی کوشش یہی رہی ہے کہ ایسے حادثات سے اگلے بچے اور اگلے انسان کو کیسے بچایا جا سکتا ہے۔
’چھوٹے صوبوں کا مطالبہ پمز سانحے کے بعد مزید درست ثابت ہوا‘
چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی حمایت سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہاکہ پمز کا سانحہ ان کے اس مؤقف اور بیانیے کی مزید تائید کرتا ہے کہ وفاقی وزیر کے پاس اسپتال چلانے کا انتظام نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اسپتال کسی مقامی منتخب نمائندے یا انتظامی یونٹ کے سربراہ کے ماتحت ہونے چاہییں، جس کے پاس مکمل اختیار اور طاقت ہو اور جو مقامی لوگوں کو جواب دہ ہو۔
ان کے مطابق وفاقی وزیر کا کام اسپتال چلانا نہیں بلکہ پالیسی، مستقبل کی منصوبہ بندی، ہیلتھ کیئر ریگولیشن، ادویات، ویکسین، برآمدات اور نرسنگ کی تعلیم سمیت صحت کے شعبے سے متعلق پالیسی اور ریگولیشن طے کرنا ہونا چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ اگر اسلام آباد میں کسی مقامی منتخب شخص کے پاس مکمل اختیار ہو تو شہری اسے ووٹ کے ذریعے اس سانحے کا ذمہ دار قرار دے کر عہدے سے ہٹا سکتے ہیں، جبکہ موجودہ نظام میں یہ براہ راست ممکن نہیں۔
’کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے مراد وفاق سے کراچی چلانا نہیں‘
کراچی کے انتظام کو وفاق کے حوالے کرنے کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہاکہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وفاق اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی چلائے۔
انہوں نے کہاکہ وفاق جو پیسہ کراچی کے لیے صوبائی حکومت کو دیتا ہے، وہ کراچی کے کسی منتخب نمائندے یا منتخب حکومت کو براہ راست دیا جائے اور اسے وسائل اور اختیارات منتقل کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤقف میں وفاق سے کراچی کے انتظام کے وسائل اور اختیارات منتقل کرنے کی بات ہے، نہ کہ اسلام آباد سے بیٹھ کر کراچی چلانے کی۔
’پیپلز پارٹی کے چھوٹے صوبوں سے متعلق مؤقف پر مصطفیٰ کمال کی تنقید‘
پیپلز پارٹی کے چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق مؤقف پر مصطفیٰ کمال نے کہاکہ اگر پیپلز پارٹی کے لوگ مزید صوبوں یا انتظامی یونٹس کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ ان کے مؤقف کی نہیں بلکہ اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین کی مخالفت کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے آئین میں صوبے بنانے کی بات کی تھی، اس لیے صوبے بنانے کی بات کرنا غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ آئین انسانوں نے بنایا ہے اور وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے آئین میں اب تک 27 ترامیم ہو چکی ہیں، اس لیے اگر موجودہ حالات میں مزید تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر ملک کا نظام موجودہ طریقے سے نہیں چل پا رہا اور وفاق اپنا کام پورا کر دیتا ہے لیکن نچلی سطح پر ڈیلیوری نہیں ہو رہی تو انتظامی یونٹس میں تبدیلی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔
’انڈیا 9 صوبوں سے 38 تک پہنچ گیا، پاکستان میں تبدیلی کیوں نہیں ہو سکتی؟‘
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ یہ دلیل درست نہیں کہ چونکہ صوبوں نے پاکستان بنایا تھا اس لیے پاکستان میں انتظامی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ بھارت بھی صوبوں کی بنیاد پر قائم ہوا تھا لیکن وہاں صوبوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور وہ 9 صوبوں سے 38 تک پہنچ گیا۔
انہوں نے خاندان کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ جب ایک گھر میں بچے بڑے ہو جائیں، ان کی شادیاں ہو جائیں اور پھر ان کے بچے بھی بڑے ہونے لگیں تو گھر میں مزید منزل تعمیر کرنے یا نیا گھر بنانے سے خاندان نہیں ٹوٹتا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی پہلے ایک ضلع تھا، جس طرح لاہور ایک ضلع ہے، لیکن پیپلز پارٹی نے 1988 سے جب بھی موقع ملا کراچی کو تقسیم کیا۔
انہوں نے کہاکہ کراچی میں ایسٹ، ویسٹ، ملیر، کورنگی سمیت مختلف اضلاع بنائے گئے اور موجودہ دور میں ایک نیا ضلع بھی بنایا گیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ ان کا مؤقف لسانی یا نسلی بنیاد پر کراچی کی تقسیم کا نہیں بلکہ انتظامی بنیاد پر چھوٹے یونٹس بنانے کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی بھی تقسیم نہیں ہونا چاہیے اور کراچی کی شناخت برقرار رہنی چاہیے۔
انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ پونے 2 کروڑ آبادی والا لاہور ایک ضلع ہے جبکہ کراچی کو مختلف اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔
’پمز پر مریضوں کا غیر معمولی بوجھ، نظام صحت پر سوالات‘
پمز اسپتال کے سانحے کے پس منظر میں اسپتال پر مریضوں کے غیر معمولی بوجھ سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہاکہ پمز اسلام آباد کا سب سے اچھا سرکاری اسپتال سمجھا جاتا ہے اور افغانستان سمیت بیرون ملک سے بھی مریض یہاں آتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پمز کے عملے سے بات کی جائے تو ہر شخص کے پاس اپنے کام کے دباؤ کی وجہ موجود ہے۔ نرسنگ اسٹاف کا کہنا ہے کہ وہ محدود تعداد میں مریضوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں لیکن ان کے پاس اس سے کئی گنا زیادہ مریض ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ او پی ڈی میں کام کرنے والے ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ وہ ایک دن میں محدود تعداد میں مریضوں کا بہتر علاج کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اس سے کئی گنا زیادہ مریض دیکھنے پڑتے ہیں، جس کے باعث وہ ہر مریض کو مطلوبہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق پمز میں مریضوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے صرف ایک نیا اسپتال بنانا کافی نہیں ہوگا بلکہ پورے ہیلتھ کیئر ایکو سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ملک کا موجودہ صحت کا نظام لوگوں کو بیماریوں سے بچانے کے بجائے ایسی صورتحال پیدا کر رہا ہے جس میں مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
وزیر صحت نے آبادی میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ملک میں ہر سال بڑی تعداد میں بچے پیدا ہو رہے ہیں اور وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ: شاہد آفریدی نے سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معیار پر سوال اٹھا دیا
انہوں نے کہاکہ پمز قریباً 1983 یا 1984 میں قائم ہوا تھا، اس وقت اسلام آباد کی آبادی قریباً ساڑھے 3 لاکھ تھی، جبکہ اب اسلام آباد کی آبادی تقریباً 36 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے تو اسی تناسب سے صحت کی سہولیات اور اسپتالوں میں اضافہ کیوں نہیں کیا گیا۔













