بھارتی وزیر داخلہ سے سوال کرنا مسلمان خواتین صحافیوں کا جرم بن گیا، دہلی پولیس نے تشدد کا نشانہ بنادیا

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 2 خواتین صحافیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ساکیت تھانے میں پولیس اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنی مسلم شناخت ظاہر کرنے کے بعد ان پر تشدد میں اضافہ کیا گیا۔

فری لانس صحافی شاہین خان اور ان کی ساتھی نفیسہ خان مقبول یوٹیوب نیوز نیٹ ورک ’فور پی ایم نیوز نیٹ ورک‘ کی جانب سے دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کی شرکت والے ایک پروگرام کی کوریج کے لیے گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی دور میں شہری آزادیوں کی صورتحال مزید خراب، سوکس نے بھارت کو واچ لسٹ میں شامل کر لیا

شاہین خان نے ساکیت پولیس اسٹیشن سے جاری کی گئی ویڈیو رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کی ساتھی کو محض وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ سے سوال کرنے پر پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ان کا نام پوچھا اور جب انہوں نے ’ شاہین خان‘ بتایا تو اہلکاروں نے اسے ان کی مذہبی شناخت سے جوڑتے ہوئے مبینہ طور پر انہیں زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

ویڈیو میں شاہین خان نے اپنے بازو پر تشدد کے نشانات دکھائے جبکہ ان کی ساتھی نفیسہ خان کو شدید تکلیف میں دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں نفیسہ خان کو پولیس اسٹیشن سے دیگر افراد کے سہارے باہر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

 

شاہین خان نے الزام عائد کیا کہ دونوں صحافیوں کو ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں تھپڑ مارے اور لاٹھیوں سے بھی تشدد کیا۔

فور پی ایم نیوز نیٹ ورک کے مدیر اعلیٰ سنجے شرما نے کہا کہ ان کا ادارہ حالیہ دنوں میں دہلی حکومت اور وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے متعلق اہم سوالات اٹھا رہا تھا اور رپورٹس شائع کر رہا تھا، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا صحافیوں کے خلاف کارروائی کا تعلق ان رپورٹس سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026: بھارت میں صحافتی آزادی کی صورتحال مزید ابتر

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنا کب سے جرم بن گیا اور کیا کسی صحافی کے نام میں ’خان‘ ہونا اس کے خلاف تشدد کی وجہ بن سکتا ہے۔

ڈیجیٹل پبلشرز اینڈ نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن سمیت صحافتی تنظیموں نے مبینہ پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ تحقیقات، پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمن پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کے مطابق دونوں خواتین کو سوال کرنے پر پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی مذہبی شناخت معلوم ہونے کے بعد مبینہ تشدد میں مزید شدت آگئی۔

صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کے کمشنر انوراگ کمار سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ پریس کونسل آف انڈیا سے بھی معاملے کا نوٹس لے کر صحافیوں کی آزادی دبانے کی مبینہ کوشش کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست منی پور میں ہندو اور عیسائی برادریوں میں مسلح تصادم، 3 افراد ہلاک

دوسری جانب کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے رہنما سومناتھ بھارتی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp