بھارتی کرکٹ اس ہفتے ایک ایسے بڑے اسکینڈل کی زد میں آ گئی ہے جس نے اس کے جونیئر کرکٹ کے نظام کی شفافیت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ایشیا کپ: پاکستانی ٹیم روایتی حریف بھارت کے خلاف شاندار پرفارمنس دے گی، آل راؤنڈر عائشہ ظفر
سال 2022 کے انڈر 19 ورلڈ کپ فائنل کے ہیرو اور بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز روی کمار کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر 40 ماہ (تقریباً 3 سال سے زائد) کم بتائی تھی۔ اس دھوکہ دہی کے بعد ان کا ریکارڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
تاہم یہ معاملہ صرف ایک کھلاڑی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک ہی تحقیقات کے دوران مزید 64 کھلاڑی بھی عمر چھپانے کی اس کارروائی میں دھر لیے گئے ہیں۔
Age-Fraud Crackdown Hits Indian Cricket: 65 Players Banned
The menace of age fraud has resurfaced in Indian cricket, with the BCCI and Cricket Association of Bengal (CAB) taking action against 65 players and imposing bans. Among those banned are Rohit Yadav, currently part of… pic.twitter.com/LaCumbunzv
— Goa News Hub (@goanewshub) September 4, 2026
اس انکشاف نے کوچز، سلیکٹرز اور انتظامیہ کی خاموشی اور نظام کی ناکامی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کامیابی کے پیچھے کا کڑوا سچ
روی کمار کوئی کم عمر حیران کن صلاحیتوں کے مالک کھلاڑی نہیں تھے بلکہ ایک 21 سالہ جوان تھے جو 17 سال کے لڑکوں کے خلاف کھیل رہے تھے۔
🚨65 Bengal cricketers barred over documentation & age fraud by the @CabCricket! The biggest shocker? Arun Kumar Chaurasiya was flagged for a massive 115-month discrepancy. U-19 stars Ravi Kumar and Rohit Yadav have also been suspended.@CricSubhayan ✍️https://t.co/S0wau6QQJq
— RevSportz Global (@RevSportzGlobal) September 4, 2026
ورلڈ کپ فائنل میں ان کی لی گئی ہر وکٹ اور ہر کامیابی ایک جھوٹ پر مبنی تھی۔ کرکٹ کے اس نظام میں جہاں کسی زیادہ عمر کے کھلاڑی کو موقع ملتا ہے وہیں کسی حقدار 17 سالہ نوجوان کا خواب اور موقع چھین لیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارتی پائلٹ ابھینندن کے ’گوا ایئر لائنز‘ جوائن کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کے طنزیہ تبصرے
کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال (سی اے بی) کی جانچ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ دھاندلی سالوں سے ایک باقاعدہ طریقے سے جاری تھی۔
پشت پناہی اور نظام کی ناکامی
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 40 ماہ کا فرق رکھنے والا کھلاڑی تمام مراحل سے گزر کر بھارت کی نمائندگی کیسے کر گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ نظام اس کی اجازت دیتا ہے۔ اگرچہ بی سی سی آئی پیدائشی سرٹیفکیٹ اور اسکول کے کاغذات مانگتی ہے لیکن یہ دستاویزات اکثر والدین اور کوچز کی ملی بھگت سے جعلی بنوائی جاتی ہیں۔ سی اے بی کی ایک روایتی ڈاکومنٹیشن چیکنگ میں 65 کھلاڑیوں کا پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک بھر میں ایسے سینکڑوں کھلاڑی موجود ہو سکتے ہیں۔
صرف دکھاوے کی کارروائیاں؟
روی کمار کا جونیئر ریکارڈ ختم کر دیا گیا ہے، روہت یادو پر 2 سال کی پابندی عائد کی گئی ہے اور دیگر 63 کھلاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سزائیاں محض دکھاوا ہیں۔ روی کمار پہلے ہی سینیئر سطح پر کھیل رہے ہیں لہذا جونیئر کرکٹ سے ان پر پابندی بے معنی ہے جبکہ ان کا سینیئر کرکٹ کا ریکارڈ اب بھی برقرار ہے۔ یہ اقدامات اس بنیادی مسئلے کا حل نہیں ہیں جو خاندانوں کو یہ دھوکہ دہی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
Reason why India are why too dominant in the Under-19 World Cup – https://t.co/0D3iUXszIO
— Susruth Sirupa (@SusruthS) September 4, 2026
اصل متاثرین اور آئندہ کا راستہ
اس تمام صورتحال میں اصل نقصان ان ایماندار اور باصلاحیت نوجوانوں کا ہوا ہے جو تمام قوانین پر عمل کرنے کے باوجود ان جعلی اور بڑی عمر کے کھلاڑیوں کی وجہ سے آگے نہ آ سکے۔
مزید پڑھیں: بھارتی وزیر داخلہ سے سوال کرنا مسلمان خواتین صحافیوں کا جرم بن گیا، دہلی پولیس نے تشدد کا نشانہ بنادیا
اگرچہ سی اے بی اس تفتیش پر مبارکباد کی مستحق ہے لیکن صرف ایک ریاست کی جانچ کافی نہیں ہے۔ بھارتی کرکٹ کو بائیو میٹرک ڈیٹا، ہڈیوں کی عمر کی جدید جانچ اور دھوکہ دہی میں ملوث والدین اور کوچز کے خلاف سخت سزاؤں جیسے بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک بی سی سی آئی اس مسئلے پر سخت ترین اقدامات نہیں کرتا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور سنہ 2022 کے انڈر 19 ورلڈ کپ کی ٹرافی پر یہ داغ ہمیشہ قائم رہے گا۔














