طوطوں کی آوازوں سے لے کر وہیل مچھلیوں کے پیچیدہ پیغامات تک، سائنس دان مصنوعی ذہانت کی مدد سے جانوروں کے رابطے کے ان طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں انسان صدیوں سے صرف آوازیں سمجھتا آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر سے فرار پالتو طوطی کی اسکول میں انٹری، طالبہ کے سر پر بیٹھ گئی
تصور کیجیے اگر ایک دن آپ کا طوطا صرف آپ کے الفاظ کی نقل کرنے کے بجائے واقعی آپ سے کوئی بات کہہ سکے یا جنگل میں پرندوں کی آوازیں سن کر مصنوعی ذہانت آپ کو بتا سکے کہ وہ ایک دوسرے کو کس چیز سے خبردار کر رہے ہیں۔
یہ خیال کبھی سائنس فکشن کا حصہ لگتا تھا لیکن مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے سائنس دانوں کو جانوروں کے رابطے کو نئے انداز سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
دنیا بھر میں محققین اب جانوروں کی ہزاروں اور لاکھوں آوازوں، حرکات اور رویوں کو ریکارڈ کرکے ان کا تجزیہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کر رہے ہیں۔ مقصد فوری طور پر جانوروں سے انسانوں جیسی گفتگو کرنا نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ ان کے مختلف اشاروں اور آوازوں میں کس قسم کی معلومات چھپی ہوئی ہیں۔
طوطا صرف الفاظ دہراتا ہے یا کچھ سمجھتا بھی ہے؟
اس تحقیق میں طوطے خاص طور پر دلچسپ مثال ہیں۔ طوطوں کی کئی اقسام انسانی آوازوں اور الفاظ کی حیرت انگیز نقل کرسکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انسان طویل عرصے سے ان پرندوں کو اپنی زبان بولنے کی صلاحیت سے جوڑتے آئے ہیں۔
لیکن سائنس دانوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ جب کوئی طوطا کوئی لفظ بولتا ہے تو کیا وہ اس لفظ کا مطلب بھی سمجھتا ہے یا محض سیکھی ہوئی آواز دہرا رہا ہوتا ہے؟
یہ فرق بہت اہم ہے کیونکہ جانوروں کی آوازوں کو سمجھنے کی جدید تحقیق کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں کہ کون سی آواز کس جانور نے نکالی بلکہ یہ جاننا ہے کہ اس آواز کا مطلب یا کام کیا ہے اور دوسرے جانور اس پر کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ کے شہری جنہوں نے لاکھوں روپے کے نایاب طوطے پال رکھے ہیں
یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک انسان کے لیے ہزاروں گھنٹوں کی ریکارڈنگ سن کر معمولی فرق تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے لیکن مشین لرننگ ایسے بڑے ڈیٹا میں بار بار سامنے آنے والے نمونے تلاش کرسکتی ہے۔
پرندوں کی آوازوں میں چھپی معلومات
اس شعبے میں حالیہ پیش رفت نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی برکلے کی محقق ڈاکٹر جولی ایلی نے زیبرا فنچ نامی چھوٹے پرندوں کی آوازوں پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کام کیا۔ انہوں نے ان پرندوں کی 11 بنیادی آوازوں کی شناخت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف آوازیں کس صورت حال میں استعمال ہوتی ہیں۔
اس تحقیق میں مشین لرننگ اور رویوں کے تجربات دونوں استعمال کیے گئے۔ نتائج سے یہ اشارہ ملا کہ پرندے صرف آوازوں کے درمیان فرق نہیں کرتے بلکہ ان آوازوں میں موجود معلومات کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔
اسی کام پر ڈاکٹر ایلی کو سال 2026 کا کولر ڈولیٹل انعام بھی دیا گیا جو مختلف انواع کے درمیان رابطے کو سمجھنے کی کوششوں کے لیے دیا جاتا ہے۔
یہ پیشرفت اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ جانوروں کے رابطے میں بھی ایسی معلومات موجود ہوسکتی ہیں جنہیں انسان ابھی پوری طرح سمجھ نہیں سکا۔
اے آئی جانوروں کی زبان کیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے؟
یہ عمل انسانی زبان کے ترجمے سے مختلف ہے۔ اگر 2 انسانی زبانوں کے درمیان ترجمہ کرنا ہو تو ہمارے پاس پہلے ہی لاکھوں کروڑوں ایسے جملے موجود ہیں جن کے معنی معلوم ہیں۔ جانوروں کے معاملے میں ایسی کوئی لغت موجود نہیں۔
مثلاً اگر ایک پرندہ مخصوص آواز نکالتا ہے تو مصنوعی ذہانت کو پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ آواز کن حالات میں نکالی گئی، آس پاس کیا ہورہا تھا، دوسرے پرندوں نے کیا ردعمل دیا اور کیا یہی آواز مختلف مواقع پر دوبارہ استعمال ہوئی۔
اس کے لیے محققین بڑی تعداد میں آوازیں اور ویڈیوز جمع کرتے ہیں۔ پھر مصنوعی ذہانت ان میں موجود نمونے تلاش کرتی ہے۔
ارتھ اسپیشیز پروجیکٹ اسی سمت میں کام کرنے والے نمایاں منصوبوں میں شامل ہے۔ اس نے نیچر ایل ایم آڈیو نامی ایک بڑے صوتی ماڈل پر کام کیا ہے جو مختلف جانوروں کی آوازوں کا تجزیہ، شناخت اور درجہ بندی کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں طوطا لاپتا، تلاش گمشدہ کے اشتہار آویزاں
منصوبے کے مطابق اس طرح کے ماڈلز پرندوں، وہیل مچھلیوں اور دیگر انواع کے بڑے پیمانے پر موجود صوتی ڈیٹا میں ایسے نمونے تلاش کرسکتے ہیں جنہیں انسانوں کے لیے الگ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
کیا ہم جلد جانوروں سے بات کرسکیں گے؟
یہاں سائنس دان خاصی احتیاط برتتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت جانوروں کی آوازوں میں نمونے تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے لیکن کسی آواز کا مطلب سمجھ لینا اور کسی جانور کی مکمل زبان کا ترجمہ کرلینا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
حالیہ سائنسی جائزوں کے مطابق ہم ابھی کسی غیر انسانی جانور کے قدرتی رابطے کے مکمل نظام کا قابلِ اعتماد ترجمہ کرنے سے بہت دور ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کسی آواز اور مخصوص رویے کے درمیان تعلق مل بھی جائے تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ہم اس جانور کی پوری زبان سمجھ گئے ہیں۔
اسی لیے محققین فی الحال یہ جاننے پر توجہ دے رہے ہیں کہ جانور کس طرح معلومات منتقل کرتے ہیں، ان کی آوازوں میں کون سے نمونے موجود ہیں اور مختلف آوازیں کن حالات میں استعمال ہوتی ہیں۔
اگر جانوروں کی زبان سمجھ آگئی تو؟
یہ سوال صرف سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ اگر مستقبل میں انسان واقعی کسی جانور کے پیغامات کو قابلِ اعتماد انداز میں سمجھنے کے قابل ہوگیا تو اس کے اثرات بہت دور تک جاسکتے ہیں۔
مثلاً جانوروں کے تحفظ، جنگلی حیات کی نگرانی اور جانوروں کی فلاح کے شعبوں میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ کسی جانور کے خوف، خطرے یا تکلیف کے بارے میں بہتر معلومات حاصل ہوسکتی ہیں اور تحفظ کے منصوبے زیادہ مؤثر بنائے جاسکتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ اگر ہم جانوروں کے رابطے کو سمجھ سکتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ ہمارا اخلاقی رویہ کیا ہونا چاہیے؟
سال2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی تحریر میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جانوروں کے رابطے کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے سمجھنے میں ممکنہ فوائد کے ساتھ اخلاقی خطرات بھی موجود ہیں۔ اگر کبھی انسان اور جانور کے درمیان حقیقی دو طرفہ رابطہ ممکن ہوگیا تو اس سے جانوروں کے بارے میں ہماری اخلاقی ذمہ داریوں کے تصور میں بھی بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کتوں کی گمشدگی اور واپسی، مالکان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے
شاید اسی لیے اس دوڑ کا سب سے دلچسپ سوال یہ نہیں کہ ’ہم جانوروں سے کب بات کرسکیں گے‘ بلکہ یہ ہے کہ جب ہم آخرکار ان کی بات سمجھنے کے قابل ہوجائیں گے تو وہ ہمیں کیا بتائیں گے؟













