پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم قومی معاملے کو سیاسی محاذ آرائی کا موضوع بنانے کے بجائے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مشاورت کرنی چاہیے۔
اپنے ایک بیان میں چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ نئے صوبوں کا قیام کسی ایک جماعت، گروہ یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا تعلق براہِ راست عوام کی سہولت، بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور ملکی مستقبل سے ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس لیے نئے صوبوں کے معاملے پر فیصلہ سیاسی مفادات یا وقتی نعرے کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ آج وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی خواہش اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے پر ازسرنو غور کی ضرورت ہے تاہم کوئی بھی اقدام آئین سے ماورا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو یہ بننے چاہییں اور اگر عوام نہیں چاہتے تو انہیں مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ فیصلہ نہ کسی ایک شخص کا ہے، نہ حکومت کا اور نہ کسی ایک سیاسی جماعت کا، عوام کی رائے کو مقدم رکھنا ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہاکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کو تو تقسیم کردیا جائے اور باقی صوبوں کو دیکھا تک نہ جائے۔
سعد رفیق نے کہاکہ میں بڑی صاف بات کرتا ہوں، چھوٹے صوبوں کا حامی ہوں، لیکن جو بھی ہوگا سب کے ساتھ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بہت بار تقسیم ہوا ہے، اب بھی اس کے لیے تیار ہے، لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کا وزیراعلیٰ نکلتا ہے تو اسے واپس آنے میں 2 دن لگتے ہیں، جبکہ سندھ کے آخر پر بیٹھا شخص کراچی جا ہی نہیں سکتا۔














