دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ناگزیر، افغان شہریوں کے ویزے بحال کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پاکستان

ہفتہ 5 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے افغانستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسانی بنیادوں پر ویزوں کا دوبارہ اجرا شروع کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔

پاکستان کی جانب سے جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کو پناہ فراہم کی، لیکن اس کے جواب میں پاکستان کو شکریہ کے تحفے کے طور پر دہشتگردی ہی ملی۔

ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور افغانستان کو اپنی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، افغانستان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ معطل رہے گا۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی پہلی ترجیح اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قومی سلامتی ہے۔ انسانی ہمدردی کے تقاضے قومی سلامتی کی قیمت پر پورے نہیں کیے جا سکتے۔

ردعمل کے مطابق افغانستان سے مسلسل سرحد پار دہشتگردی کے پیش نظر پاکستان قبل از وقت ویزا سہولیات دوبارہ شروع کرکے سیکیورٹی خطرات مول نہیں لے سکتا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کو افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ایک پاکستانی فرد کی جان و سلامتی پورے افغانستان سے زیادہ اہم ہے۔

پاکستان کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ تمام مسائل افغان طالبان حکومت کی دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے دہشتگردی میں ملوث اپنے بھائیوں کو ترجیح دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp