غزہ کے شمالی علاقے میں فلسطینی خاندانوں نے تقریباً 100 افراد کی تدفین کی، جن میں کم از کم 60 بچے شامل ہیں، اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔
ان افراد کی باقیات غزہ سٹی کے علاقے زیتون میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد برآمد کی گئی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاندانوں نے اتوار کے روز زیتون سے برآمد ہونے والی باقیات کو غزہ سٹی کے وسط میں واقع المعمدانی قبرستان منتقل کیا، جہاں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر غزہ میں جنگ بندی برقرار ہے تو حملے کیوں جاری ہیں؟ پاکستان کا اقوام متحدہ میں سخت سوال
برآمد ہونے والے افراد میں سے 55 کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے، اہل خانہ نے طویل انتظار کے بعد اپنے پیاروں کی باقیات کو ایسے قبرستان میں دفن کیا جہاں ان کی قبریں شناخت کے ساتھ موجود رہ سکیں۔
رپورٹس کے مطابق، کئی مقامات پر باقیات مکمل لاشوں کی شکل میں نہیں بلکہ ہڈیوں اور ذاتی اشیا کے ٹکڑوں کی صورت میں مل رہی ہیں، جس کے باعث شناخت کا عمل بھی انتہائی مشکل ہے۔
🚨A heartbreaking farewell for 100 Palestinians after Gaza Civil Defense teams recovered their remains from beneath the rubble, three years into Israel’s genocidal war on the Gaza Strip. pic.twitter.com/MAIHXfleXu
— Gaza Notifications (@gazanotice) September 5, 2026
امدادی کارکن زندہ بچ جانے والے افراد اور پڑوسی خاندانوں کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تباہ ہونے والی عمارتوں میں کون لوگ موجود تھے۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے سربراہ رائد الدہشان نے بتایا کہ ملبے تلے اب بھی تقریباً 8 ہزار افراد کی لاشیں موجود ہونے کا اندازہ ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ پر دستاویزی فلم ’نازا‘ وینس فیسٹیول میں گولڈن لائن کی امیدوار
ان کے مطابق اگر مناسب بھاری مشینری اور ضروری حفاظتی سامان دستیاب ہو تو باقیات کی تلاش کا کام تقریباً 90 روز میں مکمل کیا جاسکتا ہے، تاہم آلات کی عدم دستیابی کے باعث یہ عمل کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیموں کو بڑے ایکسکیویٹرز، حفاظتی سامان اور لاشوں کی تلاش کے لیے خصوصی آلات کی فوری ضرورت ہے۔
A heartbreaking scene… A man carries the remains of his relatives after they were recovered from beneath the rubble in eastern Gaza City, where they had remained trapped since the Israeli occupation forces bombed the area during the war. pic.twitter.com/LOCZvBvGEM
— Sameh Ahmed 𓂆 🇵🇸 (@PalPress24) September 5, 2026
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے عہدیدار اجیت سنگھے نے کہا کہ ملبے سے ملنے والی باقیات غزہ میں جاری جنگ کی تباہ کاریوں کی یاد دہانی ہیں۔
ان کے مطابق بعض باقیات نومبر 2023 تک کی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 73,651 فلسطینی جاں بحق اور 174,592 زخمی ہو چکے ہیں۔














