غزہ میں 60 بچوں سمیت 100 افراد کی باقیات برآمد، تدفین پر رقت آمیز مناظر

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ کے شمالی علاقے میں فلسطینی خاندانوں نے تقریباً 100 افراد کی تدفین کی، جن میں کم از کم 60 بچے شامل ہیں، اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔

ان افراد کی باقیات غزہ سٹی کے علاقے زیتون میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد برآمد کی گئی تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاندانوں نے اتوار کے روز زیتون سے برآمد ہونے والی باقیات کو غزہ سٹی کے وسط میں واقع المعمدانی قبرستان منتقل کیا، جہاں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اگر غزہ میں جنگ بندی برقرار ہے تو حملے کیوں جاری ہیں؟ پاکستان کا اقوام متحدہ میں سخت سوال

برآمد ہونے والے افراد میں سے 55 کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے، اہل خانہ نے طویل انتظار کے بعد اپنے پیاروں کی باقیات کو ایسے قبرستان میں دفن کیا جہاں ان کی قبریں شناخت کے ساتھ موجود رہ سکیں۔

رپورٹس کے مطابق، کئی مقامات پر باقیات مکمل لاشوں کی شکل میں نہیں بلکہ ہڈیوں اور ذاتی اشیا کے ٹکڑوں کی صورت میں مل رہی ہیں، جس کے باعث شناخت کا عمل بھی انتہائی مشکل ہے۔

امدادی کارکن زندہ بچ جانے والے افراد اور پڑوسی خاندانوں کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تباہ ہونے والی عمارتوں میں کون لوگ موجود تھے۔

غزہ کی سول ڈیفنس کے سربراہ رائد الدہشان نے بتایا کہ ملبے تلے اب بھی تقریباً 8 ہزار افراد کی لاشیں موجود ہونے کا اندازہ ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ پر دستاویزی فلم ’نازا‘ وینس فیسٹیول میں گولڈن لائن کی امیدوار

ان کے مطابق اگر مناسب بھاری مشینری اور ضروری حفاظتی سامان دستیاب ہو تو باقیات کی تلاش کا کام تقریباً 90 روز میں مکمل کیا جاسکتا ہے، تاہم آلات کی عدم دستیابی کے باعث یہ عمل کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیموں کو بڑے ایکسکیویٹرز، حفاظتی سامان اور لاشوں کی تلاش کے لیے خصوصی آلات کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے عہدیدار اجیت سنگھے نے کہا کہ ملبے سے ملنے والی باقیات غزہ میں جاری جنگ کی تباہ کاریوں کی یاد دہانی ہیں۔

ان کے مطابق بعض باقیات نومبر 2023 تک کی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 73,651 فلسطینی جاں بحق اور 174,592 زخمی ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں