آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلسطینی دستاویزی فلم ’نو آدر لینڈ‘ کے ہدایتکاروں کی نئی فلم نازا اگلے ماہ وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی جائے گی۔
نازا گولڈن لائن ایوارڈ کے لیے مقابلے میں شامل 21 فلموں میں واحد دستاویزی فلم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘، ’یہ صرف کہانی نہیں تاریخ ہے‘
فلم فیسٹیول کی ویب سائٹ پر جاری خلاصے کے مطابق یہ فلم غزہ میں فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر منظم اور سوچے سمجھے قتل کے پیچھے کارفرما اسرائیلی نظام کا جائزہ لیتی ہے۔
فلم کی ہدایت کاری یوال ابراہم اور ریچل سور نے کی ہے، جو ’نو آدر لینڈ‘ کے 4 مشترکہ ہدایت کاروں میں شامل تھے۔

’نو آدر لینڈ‘ میں مقبوضہ مغربی کنارے کے ان فلسطینی دیہات کی کہانی بیان کی گئی ہے جنہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسمار کیے جانے کے خلاف فلسطینی کارکن مزاحمت کرتے ہیں۔
نازا کو دی گارڈین اور جیمز ولسن کی کمپنی جے ڈبلیو فلمز نے پروڈیوس کیا ہے، جبکہ جوناتھن گلیزر اس کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار
ولسن اور گلیزر آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’دی زون آف انٹرسٹ‘ کی ٹیم کا بھی حصہ تھے، جو آشوٹز حراستی کیمپ کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔
دی گارڈین کے مطابق ’نازا‘ ایک اسرائیلی فوجی مخفف ہے، جسے اسرائیلی انٹیلیجنس مبینہ طور پر فضائی حملے میں ممکنہ طور پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے بطور اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

فلم کی نمائش 10 ستمبر کو ہوگی، جس میں ہدایت کاروں، پروڈیوسرز، دی گارڈین کے صحافیوں اور فلم کی باضابطہ ٹیم کی شرکت متوقع ہے۔
وینس فلم فیسٹیول کا 83واں ایڈیشن گولڈن لائن ایوارڈ کے لیے 21 فلموں کے درمیان مقابلے کی میزبانی کرے گا، جبکہ نازا اس مقابلے میں شامل واحد دستاویزی فلم ہوگی۔














