اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب جنگ بندی نافذ ہے تو پھر مسلسل فضائی حملے اور معصوم شہریوں کی شہادتیں کیوں نہیں رک رہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک 1200 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ زمینی حالات تاحال انتہائی ابتر ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامیز الاکبروف نے بتایا کہ 12 اگست کو ایک ہفتے کے وقفے کے بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں جن کے نتیجے میں 100 افراد جاں بحق اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ جنگ بندی منصوبہ: ٹرمپ کے داماد کی اسرائیل اور حماس سے بات چیت بے نتیجہ ختم
انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسیز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایتھینا رے برن نے کہا کہ امداد کی ترسیل میں معمولی بہتری سے ‘2’ ملین محصور فلسطینیوں کی بنیادی حالت پر کوئی فرق نہیں پڑا، کیونکہ وہ اب بھی شدید مصائب کا شکار ہیں۔
ای 1 سیٹلمنٹ منصوبہ اور اسرائیل کی علاقائی توسیع
اجلاس کے دوران پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے ‘ای 1’ آباد کاری منصوبے کی پیش رفت کو انتہائی خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے مقبوضہ مغربی کنارہ تقسیم ہو جائے گا اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کا جغرافیائی تسلسل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
فلسطینی مندوب ریاض منصور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیلی حکومت نے ٹینڈرز جاری کر کے واضح کر دیا ہے کہ اس کا مقصد فلسطینی ریاست کا مکمل خاتمہ ہے۔
فرانس نے بھی اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی بن گویر کے اس بیان کی سخت مذمت کی جس میں انہوں نے غزہ میں روزانہ 30 یا 40 افراد کو مارنے کا مطالبہ کیا تھا۔
عالمی طاقتوں کے مؤقف اور تنازعات
امریکا نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حماس کی حکومت یا طویل اسرائیلی قبضے کے متبادل راستے نکلتے ہیں۔
تاہم قطر کی جانب سے عرب گروپ کی نمائندگی کرتے ہوئے سفیر علیا احمد سیف آل ثانی نے واضح کیا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔
مزید پڑھیں:غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا اسرائیلی اقدامات پر سخت ردعمل
اس کے علاوہ پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے روکے گئے ٹیکس ریونیو کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا اور سال 2026 کے آغاز میں مغربی کنارے میں آباد کاروں کے ماہانہ تقریباً 190 حملوں پر شدید تشویش ظاہر کی۔
طویل تنازع اور 2 ریاستی حل کا مطالبہ
مشرقِ وسطیٰ کا یہ دیرینہ تنازع دہائیوں سے خطے کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، جہاں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے عوام مسلسل غیر یقینی اور انسانی المیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود 2 ریاستی حل، 1967ء کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کا مطالبہ تاحال تشنہِ تکمیل ہے، جبکہ حالیہ فوجی کارروائیوں نے امن کی تمام امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔














