پاکستان کرکٹ بورڈ نے میڈیا رپورٹس میں پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کے اندر مبینہ ڈسپلن اور طرزِ عمل سے متعلق مسائل سامنے آنے کے بعد اندرونی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کا اندرونی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور معاملے کو بورڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، محسن نقوی نے فیصلوں کو ضروری قرار دیدیا
بورڈ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا عمل پی سی بی کے ضوابط کے مطابق جاری ہے تاکہ معاملے سے متعلق تمام افراد کا مؤقف اور صورتحال کے تمام پہلوؤں کو مناسب اہمیت دی جا سکے۔
تاہم پی سی بی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن مخصوص رپورٹس کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئی ہیں، نہ ہی کسی کھلاڑی کا نام لے کر مبینہ الزامات کی تصدیق کی ہے۔
The Pakistan Cricket Board cracked down further after team's back-to-back defeats in the ongoing England Test tour, launching inquiry against its own players regarding behaviour and conduct issues.#ENGvPAK https://t.co/CilDj4zDay
— Circle of Cricket (@circleofcricket) September 7, 2026
بورڈ نے میڈیا میں گردش کرنے والے قیاس آرائیوں پر مبنی اور غیر مصدقہ دعوؤں کو قابلِ اعتماد نہ سمجھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
پی سی بی کے مطابق بعض دعوے ’مخالف بیرونی ذرائع‘ سے سامنے آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کا اثر، قومی سلیکشن کمیٹی میں بھی اختلافات سامنے آگئے
پی سی بی نے کہا کہ وہ اس مرحلے پر معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا اور متعلقہ حلقوں سمیت عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والی سرکاری معلومات پر انحصار کریں۔
یہ تحقیقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب انگلینڈ کے جاری دورے کے دوران پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کے بعض ارکان کے حوالے سے مبینہ ڈسپلن اور آف دی فیلڈ طرزِ عمل سے متعلق میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
The Pakistan Cricket Board has initiated an internal disciplinary inquiry following media reports concerning discipline and conduct, which are currently being reviewed internally. The PCB handles such matters in accordance with its standard procedures. The process is being…
— Amir Mir (@AmirMirpcb) September 7, 2026
بعض رپورٹس میں محمد رضوان اور امام الحق کے نام بھی مبینہ آف دی فیلڈ معاملات کے حوالے سے لیے گئے ہیں، تاہم پی سی بی نے نہ تو ان دونوں کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر جاری تحقیقات سے منسلک کیا ہے اور نہ ہی ان سے متعلق کسی الزام کی تصدیق کی ہے۔
فی الحال پی سی بی نے صرف اندرونی تحقیقات شروع کیے جانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ مبینہ الزامات کی نوعیت اور ان میں ملوث افراد کے نام باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائے گئے۔
مزید پڑھیں: ’آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں ‘، جیسن گلیسپی کی عاقب جاوید پر کڑی تنقید
بورڈ کے مؤقف کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا میں گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں کو حتمی حقیقت سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔














