ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم میں آرٹیکل 140 اے، جو اٹھارویں ترمیم کا حصہ تھا، اسے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی نے تسلیم کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے سے انکار کردیا، جبکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ بھی موجود ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حیدر عباس رضوی نے کہاکہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آئین کی جو شق کسی ایک سیاسی جماعت کو سوٹ کرتی ہے، وہ اسے تسلیم کرلیتی ہے، جبکہ جو آئینی شق اسے سوٹ نہیں کرتی، اس پر عملدرآمد نہ کرکے آئین کی صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آئین کی شق پر عملدرآمد نہ کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی توہین ہوتی ہے۔
حیدر عباس رضوی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو آئین کی تمام شقوں کو یکساں طور پر تسلیم کرنا چاہیے اور ان پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے، نہ کہ اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق کسی آئینی شق کو تسلیم یا مسترد کیا جائے۔
واضح رہے کہ ملک میں نئے صوبوں کی بحث زور پکڑ چکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی نے کھل کر اس کی مخالفت کردی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ صوبوں کے معاملے ریفرنڈم ہوگا یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی سیاسی جماعتوں کو مخالفت نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ یہ قومی معاملہ ہے۔












