پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر ماورائے آئین کوئی کام نہیں ہونے دیں گے۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے شہلا رضا نے کہاکہ صوبہ پنجاب کے لوگ جب محنت کرنے بلوچستان جاتے ہیں اور وہاں سے لاشیں آتی ہیں تو ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
’ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے جب روز کراچی کو برا کہا جاتا ہے اور جنوبی پنجاب سے لوگ چھوٹی چھوٹی مزدوریوں کے لیے کراچی منتقل ہوتے ہیں، کراچی کو برا بھی کہتے ہیں اور پشاور سے زیادہ پشتون کراچی میں رہتے ہیں، ایک سندھ ہی تو ہے جس کا دارالحکومت سب کو پال رہا ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ ابھی ہم کراچی میں پولیس ہاکی ٹورنامنٹ کرا رہے ہیں جس میں پنجاب خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر سے بچے شرکت کے لیے آئے ہیں تو میری امیدیں ابھی ختم نہیں ہوئیں کہ جس صوبے میں لوگ رات کو باہر نہیں نکل سکتے وہاں سے لوگ آئے ہیں۔
’میں نہیں سمجھتی کہ ہمارے درمیان نسل پرستی ہے۔ کہیں بدانتظامی ہے تو سیاسی طور پر ضرور اس پر تنقید کریں، مخالفت برائے مخالفت نہ کریں۔‘
’جو لوگ بات چیت پر یقین نہیں رکھتے وہ سیاستدان کہلائے جانے کے لائق نہیں‘
صدر مملکت آصف علی زرداری کے دروۂ یورپ اور لندن اور وہاں سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سیاسی لوگوں کا آپس میں ملاقاتیں کرنا بہت ہی اچھی بات ہے۔
انہوں نے کہاکہ لندن ملاقاتوں میں کیا طے پایا، وہاں لوگوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں، اس بارے میں معلوم نہیں لیکن سیاسی قیادت کا آپس میں ملنا بہت اچھی بات ہے، بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہییں۔
شہلا رضا نے کہاکہ جو لوگ بات چیت پر یقین نہیں رکھتے وہ سیاستدان کہلائے جانے کے لائق نہیں ہیں، مجھے تو اِس بات کی خوشی ہے کہ سیاسی قائدین وہاں پر ملے۔ آصف زرداری یا پیپلز پارٹی نئے صوبے بنانے کے مجاز نہیں ہیں۔ سندھ کے مالک سندھ کے عوام ہیں، عوام کا فیصلہ سندھ اسمبلی نے دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آصف زرداری جب بھی ملک سے باہر جاتے ہیں لوگوں کو مسائل ہو جاتے ہیں حالانکہ ان کی طرح بہادری سے کسی نے جیل نہیں کاٹی، بیمار بھی ہوئے تو یہیں سے علاج کرایا۔
’ماورائے آئین کچھ بھی نہیں ہونے دیں گے‘
اُنہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی اِس بارے میں ذرا بھی کنفیوژ نہیں کہ ہم ماورائے آئین کچھ بھی نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے اپنے شہیدوں کو ضمانت دی ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں اِس آئین کو بہتر سے بہتر کریں گے اور ترمیم بھی وہ لائیں گے جس میں دو تہائی اکثریت ہو۔ اگر غلط لوگوں کے ہاتھ میں دو تہائی اکثریت دی گئی تو ایسی صورت میں بھی ہم ثابت قدم رہ کر مقابلہ کریں گے۔
نئے صوبوں کے حوالے سے محسن نقوی کے اعتماد کی وجہ کیا ہے؟
شہلا رضا نے کہاکہ یہ وہ اعتماد ہے جس کی بنیاد پر پاکستان کے آئین کو ماضی میں توڑا گیا۔ کوئی بھی شخص اگر ماورائے آئین بات کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ڈکٹیٹر مائنڈ سیٹ رکھتا ہے۔
’محسن نقوی اور آصف زرداری کے تعلق کے بارے میں باتیں بے بنیاد ہیں‘
شہلا رضا نے کہاکہ ہمارے کلچر کے حساب سے جب آپ اپنے سے کم عمر کسی شخص سے بات کرتے ہیں تو کبھی اسے بیٹا کہہ دیتے ہیں کبھی بھائی کہہ دیتے ہیں۔ میں جب اسپیکر سندھ اسمبلی تھی تو لوگ مجھے میڈم اسپیکر کے بجائے شہلا باجی کہتے تھے اب بھی مجھےکوئی بھابھی کہتا ہے، کوئی آپا کہتا ہے، یہ ہمارے کلچر کی خوبصورتی ہے جو کہ رہنی چاہیے۔
’خواجہ آصف، احسن اقبال کے بجائے وزیرِ قانون کا بیان پیپلز پارٹی کے مؤقف کے قریب ہے‘
شہلا رضا نے کہاکہ ہر شخص کا حق ہے وہ اپنی رائے رکھے، خواجہ آصف ہائبرڈ نظام کے حامی ہیں، احسن اقبال کے بیانات اور طرح کے ہیں لیکن وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بیان پیپلز پارٹی کے مؤقف سے زیادہ قریب ہے۔ ن لیگ کو وِکٹ کے چاروں طرف نہیں کھیلنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ آیا وہ آئینی طریقہ کار کے ساتھ ہے، اور اگر محسن نقوی کوئی اور پیغام لے کر آ رہے ہیں تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ آیا وہ مسلم لیگ (ن) کا پیغام ہے یا کسی اور کا۔ پیپلز پارٹی کا پیغام آئین کے ساتھ ہے۔
’سندھ میں بدانتظامی کے بارے میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے‘
انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ گورننس اور کارکردگی کو ناپنے کے 29 پیمانے ہیں جن میں سب سے زیادہ سندھ میں عملدرآمد ہو رہا ہے۔ محسن نقوی کے پاس سی ڈی اے ہے، اسلام آباد کا امن و امان ہے لیکن کتنے مسائل ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سندھ میں اِتنا بڑا سیلاب آیا ہم نے اتنی ہی بڑی وہاں پر ہاؤسنگ اسکیم دے دی۔ آپ ہمارے اسپتال دیکھیں، ہمارے بجلی گھر دیکھیں، ہم نے سب سے زیادہ یونیورسٹیاں بنائی ہیں، اسپتال بنائے ہیں، اٹھارویں ترمیم کے بعد سب سے زیادہ بجلی ہمارا صوبہ پیدا کر رہا ہے اور کیا کریں۔ سندھ مخالف مہم کو بند کیا جانا چاہیے۔
’سندھ کا اسکول سسٹم ورلڈ کمپیٹیشن کے لیے گیا ہے‘
شہلا رضا نے کہا کہ پنجاب تو اپنے اسکولوں کو آؤٹ سورس کر رہا ہے جبکہ ہمارے دیہی سندھ کے اسکول ورلڈ کمپیٹیشن کے لیے گئے ہیں۔ سندھ کے نظام تعلیم کے بارے میں ابھی ایک صحافی نے بات کی تو بتایا گیا کہ 92 ہزار نوکریاں میرٹ پر دی گئی ہیں اور وہ جن نوکریوں کے بارے میں بات کر رہے تھے وہ ہمارے سے پہلے کی تھیں۔
ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال پر تنقید کرتے ہوئے اُنہوں نے کہاکہ وہ ایک وزیر رو رہا ہے کہ میرے پاس تو ایک اسپتال تھا، مجھے تو یہ کہہ کر وزارت دی تھی، 50 سال بعد آپ ایم کیو ایم میں بھی روئے تھے، یہاں بھی روئے، وزارت نہ لیتے۔ مصطفیٰ کمال کا اپنے حلقے میں یہ حال ہے کہ ایک کارنر میٹنگ نہیں کر سکتے۔
’مریم کو سیاسی سمجھ بوجھ کی کمی ہے، بہتر ہے ٹیوشن لے لیں‘
مریم نواز کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مریم نواز کو وزارتِ اعلیٰ جہیز میں ملی ہے، ان کے لیے اتنا کافی ہے کہ روزانہ تیار ہو کر کسی منصوبے کا افتتاح کر دیں وہ پورا ہو یا نہ ہو، اتنا کافی ہے ان کے لیے۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارتی ہاتھ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مریم نواز کو سیاسی سمجھ بوجھ کی کمی ہے انہیں پڑھنا اور ایسے موضوعات کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ مریم نواز کے ساتھ پرویز رشید جیسے بہت سینیئر لوگ ہیں اور ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ ٹیوشن لے لیں۔
انہوں نے کہاکہ انہیں اگر بلاول بھٹو زرداری کی منگنی پر بلایا گیا تو وہ بڑے شوق سے شرکت کریں گی۔ لیکن فی الحال اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔













