ایفل ٹاور میں ہندو وفد کا دورہ، خواتین ملازمین کو دور رکھنے پر تحقیقات شروع

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیرس کے معروف سیاحتی مقام ایفل ٹاور میں ہندو مذہبی وفد کے دورے کے موقع پر خواتین ملازمین کو نظروں سے اوجھل رہنے اور بعض مقامات سے ہٹ جانے کی ہدایات دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

اس واقعہ پر ملازمین نے احتجاج کیا، جبکہ پیرس کی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کردیا۔

یونین نمائندوں کے مطابق واقعہ 5 ستمبر کو پیش آیا، جب بوچا سنواسی اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) سے وابستہ تقریباً 100 افراد پر مشتمل ہندو مذہبی وفد نے ایفل ٹاور کا نجی دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پیرس: دریائے سین 102 برس بعد عوامی تیراکی کے لیے کھول دیا گیا

ایفل ٹاور کو چلانے والی کمپنی نے تصدیق کی کہ وفد کی جانب سے دورے کے دوران خواتین کے ساتھ رابطے کو محدود رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔

کمپنی نے اعتراف کیا کہ ایسی شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

کمپنی کے مطابق وفد کے حجم کے پیش نظر دورے کا انتظام ایفل ٹاور کی انتظامیہ کے تعاون سے معمول کے اوقات کار کے آغاز میں کیا گیا تاکہ دیگر سیاحوں کے لیے کسی قسم کی خلل یا زحمت پیدا نہ ہو۔

دوسری جانب بی اے پی ایس نے واقعے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو اس بات پر افسوس ہے کہ اس دورے کے دوران کسی کو تکلیف یا زحمت پہنچی۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ وفد کے کسی رکن کی جانب سے کسی شخص کو ایفل ٹاور میں داخلے سے روکنے کی کوئی بات اس کے علم میں نہیں۔

ایفل ٹاور کے ملازمین نے اپنے بیان میں خواتین عملے کو ان کی جنس کی بنیاد پر ’پیچھے کرنے، تبدیل کرنے اور غیر مرئی بنانے‘ کی ہدایات کی مذمت کی۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے پروازوں کی پیرس روانگی کے موقع پر جاری متنازع اشتہار، ادارے نے معذرت کرلی

ملازمین کے مطابق خواتین عملے کو اپنی ڈیوٹی کی جگہوں سے ہٹ کر دیگر حصوں میں جانے کے لیے کہا گیا، بعض مقامات پر ان کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کیا گیا، جبکہ وفد کی موجودگی کے دوران خواتین ملازمین کو کچھ مخصوص راستوں اور علاقوں سے گزرنے سے بھی منع کیا گیا۔

یونین نمائندہ ڈیان ڈاوائن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وفد کے گزرنے کے دوران خواتین ملازمین کو اپنی ورک اسٹیشنز چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تاکہ وہاں مرد ملازمین تعینات کیے جاسکیں۔

ان کے مطابق انتظامیہ نے بعد ازاں ملازمین سے اس واقعے پر معذرت بھی کی۔

مزید پڑھیں: دنیا کے سب سے زیادہ انسٹاگرام کیے جانے والے سیاحتی مقامات کون سے ہیں؟

پیرس کے ڈپٹی میئر ایمانوئل گریگوئر نے واقعے پر ملازمین کے غصے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقائق سامنے لانے کے لیے جلد از جلد تحقیقات شروع کی جائیں گی۔

فرانس کی قومی اسمبلی کی صدر یائل براؤن پیویٹ نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں کا خیرمقدم کرنے کا مطلب اپنے اقدار سے دستبردار ہونا نہیں۔

ان کے بقول فرانس میں خواتین معاشرے اور عوامی زندگی میں مکمل طور پر موجود ہیں اور کسی کو انہیں ’غیر مرئی‘ ہونے کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔

واقعے کے بعد ایفل ٹاور کے عملے اور انتظامیہ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جس کے بعد پیر کی رات بند رہنے والا یہ معروف مقام منگل کو دوبارہ کھولنے کے لیے مقرر تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا