برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سوم نے واضح کیا ہے کہ ان کے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کو برطانوی شاہی خاندان کے ’فعال ارکان‘ تصور نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ امریکا سے واپس برطانیہ منتقل ہوچکے ہیں۔
شہزادہ ہیری اور میگھن نے 2020 میں شاہی خاندان سے اختلافات کے بعد برطانیہ چھوڑ دیا تھا اور شاہی فرائض سے دستبردار ہوگئے تھے۔
تاہم گزشتہ ماہ 41 سالہ شہزادہ ہیری اور 45 سالہ میگھن اپنے دونوں بچوں، آرچی اور لیلی بیٹ کے ہمراہ دوبارہ برطانیہ منتقل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: کنگ چارلس اور شہزادہ ولیم کے درمیان اختلافات کی خبریں
شاہ چارلس کی ہدایت پر جاری کیے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ جوڑے کی حیثیت عام نجی شہریوں کے برابر ہے اور انہیں ’ہز رائل ہائنس‘ یا ’ہر رائل ہائنس‘ کے خطابات سے مخاطب نہیں کیا جانا چاہیے۔
شاہی محل کے اعلیٰ ترین حکام میں شمار کیے جانیوالے لارڈ چیمبرلین کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی کے بعد ان کی حیثیت سے متعلق متعدد رہنمائی طلب کی گئی تھی، اس لیے کسی بھی ابہام یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے وضاحت جاری کی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ جنوری 2020 میں ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس نے بادشاہ کی نمائندگی میں سرکاری فرائض انجام دینے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی اور اب وہ شاہی خاندان کے فعال ارکان نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: شاہ چارلس نے اسکاٹ لینڈ کے نایاب شاہی خزانے کو تباہی سے کیسے بچایا؟
خط کے مطابق ہیری اور میگھن کی مالی خودمختاری اور نجی زندگی کے تحفظ سمیت ان کی موجودہ حیثیت کا احترام جاری رکھا جائے گا، جو شاہی خاندان کے فعال ارکان کی سرکاری اور ریاستی ذمہ داریوں سے مختلف ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے موجودہ فعال ارکان میں شاہ چارلس سوم، ملکہ کیمیلا، ولی عہد شہزادہ ولیم، شہزادی کیتھرین، شہزادی این، شہزادہ ایڈورڈ اور ان کی اہلیہ صوفی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے خاندان کے بعض کزنز بھی شاہی فرائض انجام دیتے ہیں۔
شہزادہ ہیری اور میگھن، جو باضابطہ طور پر ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کہلاتے ہیں، وسطی انگلینڈ کے علاقے کوٹس وولڈز میں مقیم ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان کے بچوں کو آئندہ تعلیمی سال کے لیے وہاں کے نجی اسکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: شاہ چارلس کے 66 سالہ جلاوطن بھائی اینڈریو کو پھر پیار ہوگیا
2020 میں شاہی فرائض سے دستبرداری کے بعد آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم نے ہیری اور میگھن سے ’رائل ہائنس‘ کے خطابات، پولیس سیکیورٹی اور سرکاری مالی معاونت واپس لے لی تھی۔ تازہ خط میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان کے لیے ’ہز رائل ہائنس‘ اور ’ہر رائل ہائنس‘ کے خطابات استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کی جانب سے انجام دیا جانے والا فلاحی کام ان کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ یہ سرگرمیاں نجی حیثیت میں انجام دیتے ہیں۔ مختصراً، ان کی حیثیت نجی شہریوں جیسی ہے، جن کے تجارتی اور فلاحی مفادات موجود ہیں۔
شاہی محل کی یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ہیری اور میگھن کی برطانیہ میں واپسی کے بعد اس بارے میں سوالات اٹھ رہے تھے کہ انہیں ریاست کی جانب سے سکیورٹی فراہم کی جائے گی یا اس کے اخراجات انہیں خود برداشت کرنا ہوں گے۔













