ہماری روزمرہ زندگی میں موبائل فون، کمپیوٹر، ٹائپنگ اور بار بار ہاتھوں کی ایک ہی طرح کی حرکت نے کلائیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کلائیوں کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے عمر کے زیادہ ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ نوجوانی ہی سے انہیں مضبوط رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں
ایک معمولی سا درد بھی وقت کے ساتھ سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ ایک شخص کے مطابق 18 برس کی عمر میں ٹینس کھیلتے ہوئے ان کی بائیں کلائی میں شروع ہونے والا ہلکا درد چند ماہ کے دوران اتنا شدید ہوگیا کہ گیند کو ریکٹ سے مارنے یا حتیٰ کہ دروازہ کھولنے کی کوشش پر بھی پورا بازو درد سے جھٹکنے لگتا تھا۔
اس وقت ٹینس ان کی زندگی کا اہم حصہ تھا لیکن یہ چوٹ کئی برس تک ان کے لیے مسئلہ بنی رہی۔ تقریباً 2 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ماضی کی یہ چوٹ مستقبل میں کلائی کے گٹھیا کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
کلائی اتنی اہم کیوں ہے؟
ہم اکثر کلائی کو صرف ایک جوڑ سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ کئی چھوٹے جوڑوں پر مشتمل ایک پیچیدہ نظام ہے۔
اس میں 8 چھوٹی ہڈیاں شامل ہوتی ہیں جنہیں کارپل ہڈیاں کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بازو کے نچلے حصے کی 2 لمبی ہڈیاں اور ہتھیلی میں موجود 5 میٹا کارپل ہڈیوں کے سرے بھی کلائی کے نظام کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیے: کیا سن اسکرین کا زیادہ استعمال ہڈیاں ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے؟
یہ پیچیدہ ساخت کلائی کو بیک وقت طاقت، لچک اور باریک حرکات کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کلائی کی مدد سے بھاری چیزیں اٹھا سکتے ہیں کھیل کے دوران اچانک آنے والی گیند کو مار سکتے ہیں اور پینٹنگ جیسے باریک کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔
حتیٰ کہ ٹائپنگ سے لے کر کافی کا کپ پکڑنے تک روزمرہ زندگی کے بے شمار کام صحت مند اور فعال کلائیوں کے بغیر مشکل ہوجاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے اسسٹنٹ پروفیسر اینڈریو ابادیر کے مطابق کلائی کی ہر ہڈی اور اسے بازو کی ہڈیوں سے جوڑنے والے ہر رباط کے درمیان ایک انتہائی نازک توازن قائم ہوتا ہے۔
ان کے مطابق جب یہ توازن متاثر ہوتا ہے تو کلائی کے گٹھیا کا مسئلہ پیدا ہونا شروع ہوسکتا ہے۔
پرانی چوٹ برسوں بعد بھی مسئلہ بن سکتی ہے
چوٹ اور عمر بڑھنے کے اثرات مل کر کلائی کے اس نازک توازن کو متاثر کرسکتے ہیں۔
گٹھیا کی کئی اقسام ہیں تاہم کلائی میں اس کی عام شکلوں میں ریمیٹائڈ آرتھرائٹس، اوسٹیو آرتھرائٹس اور چوٹ کے بعد ہونے والا گٹھیا شامل ہیں۔
اوسٹیو آرتھرائٹس اور چوٹ کے بعد ہونے والے گٹھیا میں کلائی کی چھوٹی ہڈیوں کو سہارا دینے والی کرکری ہڈی کی تہہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا ہڈیاں اپنی درست پوزیشن سے ہٹ سکتی ہیں۔
اس کی وجہ کلائی کے رباط یا ہڈیوں کو پہنچنے والی پرانی چوٹیں ہوسکتی ہیں جبکہ بار بار ایک ہی طرح کے ہاتھ کے کام کرنے سے پیدا ہونے والی سوزش بھی طویل مدت میں مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟
لُنڈ یونیورسٹی میں کلائی کی بحالی پر تحقیق کرنے والی سارا لارسن کے مطابق چوٹ ہمیشہ کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوتی۔ بار بار کلائی کو ایک ہی انداز میں موڑنا یا گرنے کے دوران پھیلے ہوئے ہاتھ پر وزن پڑ جانا بھی مستقبل میں مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انہیں ایسے بہت سے افراد ملتے ہیں جنہیں جوانی میں کلائی پر چوٹ لگی بظاہر وہ ٹھیک ہوگئے لیکن 20 برس بعد انہیں دوبارہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
کلائی کی طاقت مجموعی صحت کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے
ایک اندازے کے مطابق امریکا میں ہر 7 میں سے ایک شخص کلائی کے گٹھیا سے متاثر ہوسکتا ہے۔
یہ بیماری صرف درد کا سبب نہیں بنتی بلکہ کپڑے پہننے اور اپنا کھانا خود کاٹنے جیسے روزمرہ کام بھی مشکل بنا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نفسیاتی دباؤ ڈپریشن سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کلائی اور ہاتھ کی طاقت مجموعی صحت کے بارے میں بھی کچھ اشارے دے سکتی ہے۔ اینڈریو ابادیر کلائی کو جسم کی صحت کا ایک ’نگہبان جوڑ‘ قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق ریمیٹائڈ آرتھرائٹس کے تقریباً نصف مریضوں میں بیماری کے ابتدائی اثرات پہلے کلائی میں محسوس ہوسکتے ہیں اور بعد میں یہ دوسرے جوڑوں تک پھیلتی ہے۔
اسی طرح گرفت کی طاقت دماغی ساخت اور ذہنی صحت سے بھی تعلق رکھ سکتی ہے، کیونکہ دماغ کا ایک بڑا حصہ ہاتھ، انگلیوں اور کلائی کی حرکات کو کنٹرول کرنے کے لیے مختص ہے۔
وہ افراد جو 60 برس کی عمر تک اپنی کلائیوں اور گرفت کی بہتر طاقت برقرار رکھتے ہیں عمومی طور پر مجموعی صحت کے اعتبار سے بھی بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔ ایسے افراد میں کمزوری، گرنے، ہڈیوں کے ٹوٹنے اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ کم ہوسکتا ہے اور بڑھتی عمر میں خودمختاری برقرار رکھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
کلائیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے کیا کریں؟
ماہرین کے مطابق کلائیوں کو مستقبل کے مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے چند سادہ ورزشیں مددگار ہوسکتی ہیں۔
تاہم نیویارک کے آئیکان اسکول آف میڈیسن، ماؤنٹ سائنائی سے وابستہ ہڈیوں کے ماہر سرجن جیہون کِم کے مطابق غذا پر بھی توجہ دینی ضروری ہے۔
کیلشیم اور دیگر معدنیات سے بھرپور غذائیں، مثلاً چھوٹی ہڈیوں والی مچھلیاں جیسے سارڈین اور دودھ سے بنی اشیا، ہڈیوں کی کمزوری اور ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں۔
جسم میں اضافی چربی کم کرنا بھی مجموعی طور پر کلائی کے جوڑوں کی حرکت اور جسمانی ساخت کے توازن کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
لُنڈ یونیورسٹی کی سارا لارسن کے مطابق تاہم کلائیوں کو مستقبل میں مسائل سے بچانے کا ایک مؤثر طریقہ باقاعدگی سے چند سادہ گھریلو ورزشیں کرنا ہے۔
وہ ہر ورزش کے 3 سیٹ، ہر سیٹ میں 10 تکرار اور ہفتے میں 3 یا 4 مرتبہ کرنے کی تجویز دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: تنہا زندگی گزارنے سے ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں، ریسرچرز کو نئے حقائق کا کیسے پتہ چلا؟
اگر پہلے سے کوئی بیماری یا چوٹ موجود ہو تو نئی ورزشیں شروع کرنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ورزش کے دوران درد محسوس ہو تو اسے جاری رکھنے کے بجائے رک جانا اور طبی مشورہ لینا بہتر ہے۔
کندھوں کے پٹھے مضبوط کریں
اگرچہ کندھوں کی ورزش کا کلائی سے براہِ راست تعلق محسوس نہیں ہوتا، لیکن ماہرین کے مطابق پورا بازو ایک زنجیر کی طرح مل کر کام کرتا ہے۔
سارا لارسن کے مطابق اگر کندھے کمزور ہوں تو کلائی پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے جبکہ مضبوط کندھے کلائی کو اضافی دباؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے لیے سیدھے کھڑے ہوکر دونوں بازو جسم کے اطراف میں پھیلائیں۔ بازو سیدھے یا قدرے خمیدہ رکھ سکتے ہیں۔ اب انہیں آہستہ آہستہ اوپر سر کی جانب لے جائیں اور پھر اسی رفتار سے نیچے لائیں۔
اس عمل کو 10 مرتبہ دہرائیں۔
گرفت مضبوط کریں
گرفت مضبوط کرنے والی ورزشیں کلائی کو زیادہ مستحکم بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اس سے بازو کے ان پٹھوں کو مضبوط کیا جاتا ہے جو انگلیوں اور کلائی کے ذریعے چیزوں کو پکڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے لیے ہاتھوں کی ورزش والی گیند یا ایسا نرم مواد استعمال کیا جاسکتا ہے جسے ہاتھ میں دبایا جاسکے۔ اگر یہ دستیاب نہ ہو تو ٹینس بال بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔
گیند کو ہتھیلی میں رکھ کر تقریباً 5 سے 10 سیکنڈ تک جتنا ممکن ہو مضبوطی سے دبائیں۔ پھر گرفت ڈھیلی کریں اور تقریباً پانچ سیکنڈ ہاتھ کو آرام دیں۔
اس عمل کو ہر ہاتھ سے 10 مرتبہ دہرائیں۔
کلائی کو آہستہ آہستہ موڑیں اور سیدھا کریں
کلائی کے جوڑوں اور پٹھوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے کلائی کو مناسب مزاحمت کے ساتھ موڑنے اور سیدھا کرنے والی ورزش بھی مفید ہوسکتی ہے۔
یہ ورزش ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہڈیوں پر مناسب بوجھ پڑنے سے وہ خود کو مضبوط بنانے اور اپنی ساخت کو بہتر کرنے کا عمل شروع کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: جِم ضروری نہیں، ایک عادت آپ کی زندگی بڑھا سکتی ہے، جدید تحقیق
اس ورزش کے لیے میز کے سامنے بیٹھیں اور اپنا بازو میز پر اس طرح رکھیں کہ ہاتھ میز کے کنارے سے باہر ہو۔ ہاتھ میں ہلکا وزن پکڑیں۔
اصل تحقیق میں 3 سے 7 کلوگرام وزن تجویز کیا گیا ہے تاہم وزن کا انتخاب اپنی جسمانی حالت اور طاقت کے مطابق کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ماہر سے مشورہ لینا بہتر ہے۔
کلائی کو موڑنے کے لیے ہتھیلی اوپر کی طرف رکھیں اور وزن کو پکڑے ہوئے ہاتھ کو آہستہ آہستہ اپنی جانب اوپر لائیں، پھر واپس نیچے لے جائیں۔
کلائی کو سیدھا کرنے کے لیے ہتھیلی کا رخ نیچے کی طرف رکھیں اور ہاتھ کو آہستہ سے اوپر اٹھائیں، پھر واپس نیچے لے آئیں۔
دونوں حرکات کو 10، 10 مرتبہ دہرائیں۔
اگر وزن دستیاب نہ ہو تو مزاحمتی ربڑ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک سرا میز کے پائے کے ساتھ باندھ کر دوسرے سرے کو ہاتھ سے پکڑیں اور اسی طرح کلائی کو حرکت دیں۔
جیہون کِم کے مطابق خاص طور پر ان افراد کے لیے یہ ورزش مفید ہوسکتی ہے جو دن کا بڑا حصہ ٹائپنگ یا لکھنے میں گزارتے ہیں۔
کلائی کو مختلف سمتوں میں گھمائیں
آخر میں کلائی کو اندر اور باہر گھمانے والی ورزشیں ہیں جنہیں طبی اصطلاح میں سپینیشن اور پرونیشن کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟
یہ ورزش کلائی کی حرکت کی حد اور مجموعی فعالیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسے بھی میز پر بازو رکھ کر ہلکے وزن یا مزاحمتی ربڑ کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔
اپنا ہاتھ میز کے کنارے سے باہر رکھیں اور انگوٹھے کا رخ اوپر کی طرف رکھیں۔ اب کلائی کو آہستہ آہستہ گھماتے ہوئے ہتھیلی کا رخ نیچے کریں۔
پھر ہاتھ کو ابتدائی حالت میں واپس لائیں اور دوسری سمت گھماتے ہوئے ہتھیلی کا رخ اوپر کی طرف کریں۔
اس عمل کو 10 مرتبہ دہرائیں۔
اینڈریو ابادیر کے مطابق یہ ورزشیں اس لیے بھی اہم ہوتی جارہی ہیں کہ موجودہ دور میں ہم ایک ’پرونیشن والی دنیا‘ میں رہ رہے ہیں، جہاں لوگ دن کے کئی گھنٹے موبائل فون یا لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے ہاتھوں کو تقریباً ایک ہی پوزیشن میں رکھتے ہیں۔
کلائیوں کا خیال کب سے رکھنا چاہیے؟
مضبوط اور لچک دار کلائیاں ہماری زندگی کا ایسا حصہ ہیں جنہیں ہم عام طور پر اس وقت تک اہمیت نہیں دیتے جب تک ان میں کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوجائے۔
لیکن ماہرین کے مطابق کلائیوں کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے درد یا عمر رسیدگی کا انتظار ضروری نہیں۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب غذا، بازو اور گرفت کے پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں اور کلائی پر مسلسل پڑنے والے غیر ضروری دباؤ کو کم کرنا مستقبل میں مسائل کے امکانات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: رات کا کھانا کب کھانا چاہیے؟ صرف غذا نہیں وقت بھی اہم ہے
بالآخر کلائی بھی جسم کے دوسرے جوڑوں کی طرح ایک ایسی نعمت ہے جس کی اہمیت عموماً اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ کچھ عرصے کے لیے کام کرنا چھوڑ دے۔














