خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خواتین میں توجہ اور ارتکاز سے متعلق عارضہ جسے اے ڈی ایچ ڈی کہا جاتا ہے اکثر مردوں کے مقابلے میں دیر سے شناخت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟

تحقیق کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والی خواتین میں اس کی شناخت مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 5 سال بعد ہوتی ہے جبکہ بعض خواتین کو درست شناخت سے قبل بے چینی یا دیگر ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی تشخیص بھی کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کے بارے میں روایتی تصور زیادہ تر ایسے بچوں خصوصاً لڑکوں کے گرد تشکیل پایا ہے جو بہت زیادہ متحرک ہوں، اپنی نشست پر نہ بیٹھ سکیں یا واضح طور پر توجہ برقرار نہ رکھ پائیں۔ اس محدود تصور کے باعث بہت سی لڑکیوں اور خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی علامات یا خصوصیات نظر انداز ہوسکتی ہیں۔

آئرلینڈ کی سائیکولوجیکل سوسائٹی سے وابستہ ماہر نفسیات پروفیسر ڈیوڈا ہارٹ مین کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کو سمجھنے کا موجودہ طبی طریقہ کار ایک محدود تصور پر قائم رہا ہے جس میں ہر فرد کے تجربے اور دماغی ساخت کے مختلف ہونے کو پوری طرح نہیں سمیٹا گیا۔

ان کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کے علاوہ غیر ثنائی افراد میں بھی اے ڈی ایچ ڈی مختلف انداز میں سامنے آسکتا ہے، جبکہ معاشرتی توقعات بھی اس کی شناخت میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

لڑکیوں میں اے ڈی ایچ ڈی اکثر کیوں نظر نہیں آتا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی لڑکیاں بچپن ہی سے اپنے رویوں کو سماجی توقعات کے مطابق ڈھالنا سیکھ لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر انہیں خاموش رہنے، توجہ سے بیٹھنے، دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے اور ’اچھی‘ بچی بننے کی توقعات کا سامنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

پروفیسر ڈیوڈا ہارٹمن کے مطابق اس سماجی تربیت کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوسکتا ہے کہ کوئی خاتون اپنی اصل مشکلات کو کس حد تک چھپا رہی ہے۔

اسی عمل کو ’ماسکنگ‘ کہا جاتا ہے یعنی فرد اپنے قدرتی رویوں یا مشکلات کو چھپا کر معاشرے کی توقعات کے مطابق برتاؤ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ہارٹمن کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کے حوالے سے ماسکنگ پر تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد سماجی حالات میں اپنے بولنے، برتاؤ اور اظہار کو مسلسل قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ مسلسل کوشش ذہنی دباؤ اور شرمندگی کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض افراد بعد میں اپنے کہے ہوئے الفاظ کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور انہیں افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا۔

مزید پڑھیں: گرمی میں کچھ عام ادویات جسم کو زیادہ متاثر کرسکتی ہیں، ماہرین کا انتباہ

ماہر کے مطابق ماسکنگ کے ذہنی صحت پر منفی اثرات کے شواہد سامنے آ رہے ہیں اور بعض افراد کے لیے ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ خود بھی یہ سمجھنے میں مشکل محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی اصل شخصیت کیا ہے اور وہ دوسروں کے سامنے کس طرح پیش آ رہے ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ مشکلات کیوں نمایاں ہوسکتی ہیں؟

پروفیسر ہارٹمن کے مطابق عمر بڑھنے اور زندگی کی ذمہ داریوں میں اضافے کے ساتھ بعض خواتین کے لیے اپنے اے ڈی ایچ ڈی سے متعلق خصوصیات کو چھپانا مشکل ہوسکتا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر پیری مینوپاز یعنی سنِ یاس سے پہلے کے ہارمونی تبدیلیوں کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے میں بعض خواتین کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس موضوع پر مطالعات کی تعداد بھی محدود ہے۔

ہارٹمن نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے خود بھی زندگی کے ایک مرحلے میں اے ڈی ایچ ڈی کی شناخت حاصل کی۔ ان کے مطابق بچوں کی ذمہ داریاں اور بعد میں پیری مینوپاز کے دوران انہیں اپنی مشکلات زیادہ واضح محسوس ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے: فیشن یا صحت؟ گرمیوں میں فلپ فلاپس پہننے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جان لیں

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیری مینوپاز نے لازماً اے ڈی ایچ ڈی کی تمام خصوصیات کو بڑھا نہیں دیا، بلکہ بعض مشکلات، خصوصاً بھولنے اور روزمرہ کاموں کو منظم کرنے کی صلاحیت سے متعلق مسائل، زیادہ مشکل محسوس ہونے لگے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں جذباتی ردعمل اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

اے ڈی ایچ ڈی اور پیری مینوپاز میں فرق کیسے کیا جائے؟

پیری مینوپاز کے دوران ’دماغی دھند‘، بھولنے اور کاموں کو منظم کرنے میں مشکلات جیسی بعض کیفیات اے ڈی ایچ ڈی سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں۔

پروفیسر ہارٹمن کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کی شناخت کے لیے ایک اہم بات یہ دیکھنا ہے کہ اس سے متعلق خصوصیات 12 سال کی عمر سے پہلے بھی موجود تھیں یا نہیں۔ ان کے مطابق درست شناخت کے لیے تفصیلی اور سخت جانچ کا عمل ضروری ہے، جس میں فرد کی زندگی کی تاریخ اور روزمرہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ کسی شخص کو توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہوتی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ یہ خصوصیات بچپن سے موجود تھیں اور ان کا فرد کی زندگی پر کیا اثر پڑا۔

بعض اوقات بچپن کے شواہد حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جن کے پاس اپنے بچپن کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والا کوئی شخص موجود نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

ہارٹمن کے مطابق ماہرین کو مریض کی جانب سے اپنے ابتدائی تجربات کے بارے میں دی گئی معلومات کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

کیا اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والے ہر فرد کو دوا کی ضرورت ہوتی ہے؟

پروفیسر ہارٹمن کے مطابق ہر فرد کے لیے دوا ضروری نہیں اور اس حوالے سے کوئی ایک اصول سب پر لاگو نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے افراد کو محرک ادویات سے فائدہ ہوتا ہے، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ موزوں نہیں ہوتیں۔ بعض افراد ان ادویات سے متعلق یہ توقع رکھتے ہیں کہ شناخت کے بعد دوا ملنے سے ان کی تمام مشکلات ختم ہوجائیں گی، لیکن حقیقت میں ایسا ہر شخص کے ساتھ نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق علاج کا فیصلہ ہر فرد کی ضروریات، حالات اور ترجیحات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے پیشہ ورانہ تجربے کے دوران ان کی ادویات کے بارے میں رائے بھی تبدیل ہوئی اور اب وہ اس معاملے کو زیادہ کھلے ذہن سے دیکھتی ہیں۔

خواتین کو درست شناخت کے حصول میں کون سی رکاوٹیں درپیش ہیں؟

پروفیسر ہارٹمن کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کی شناخت میں ایک بڑی رکاوٹ طویل انتظار ہے۔ بعض جگہوں پر جانچ کے لیے انتظار کی فہرستیں بہت طویل ہیں، جبکہ نجی طور پر جانچ کروانا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

انہوں نے کہا کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ بعض ماہرین اب بھی اے ڈی ایچ ڈی کو صرف ایک مخصوص انداز میں ظاہر ہونے والی کیفیت سمجھتے ہیں۔

ان کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی مختلف لوگوں میں بہت مختلف انداز میں سامنے آسکتا ہے اور بعض اوقات اس کی مشکلات زیادہ تر اندرونی تجربات کی صورت میں ہوتی ہیں۔

ان کے پاس ایسے افراد بھی آتے ہیں جو ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات، فنکار یا دیگر شعبوں میں کامیاب ہیں جبکہ کچھ افراد کے لیے ملازمت برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے اے ڈی ایچ ڈی کی ممکنہ مختلف صورتوں کے بارے میں ماہرین کی مزید تربیت ضروری ہے۔

ہارٹمن کے مطابق بے چینی اور ڈپریشن جیسی کیفیات بھی بعض اوقات اے ڈی ایچ ڈی کی اصل وجہ پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور ماہرین اس امکان پر غور نہیں کرپاتے کہ خاتون کو اے ڈی ایچ ڈی بھی ہوسکتا ہے۔

ان کے خیال میں ذہنی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم سمیت مختلف اعصابی تنوع کے امکانات کی جانچ پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔

اے ڈی ایچ ڈی کو صرف ’توجہ کی کمی‘ سمجھنا درست نہیں

پروفیسر ہارٹمن کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کو صرف توجہ کی کمی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے توجہ دینے کے ایک مختلف انداز کے طور پر بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طویل فضائی سفر کے بعد ’جیٹ لیگ‘ جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

ان کے مطابق مختلف لوگوں کے دماغ مختلف انداز میں کام کرتے ہیں اور ہر انداز کی اپنی صلاحیتیں اور مشکلات ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والے بعض افراد ایک وقت میں کئی چیزوں پر توجہ دے سکتے ہیں، جبکہ ان کی توجہ کسی خاص دلچسپی یا نئے پن سے بھی بہت زیادہ متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی کام انہیں دلچسپ لگے تو وہ اس پر غیر معمولی حد تک توجہ مرکوز کرسکتے ہیں جبکہ غیر دلچسپ کام میں انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

ان کے مطابق معاشرے کو اس تصور سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کہ صرف وہی شخص بہترین انداز میں کام کرسکتا ہے جو کلاس روم یا دفتر میں خاموشی سے بیٹھ کر ایک ہی کام پر توجہ مرکوز رکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کی ترقی کے لیے مختلف انداز میں سوچنے اور کام کرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔

اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والی خواتین کی مدد کیسے کی جائے؟

پروفیسر ہارٹمن کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والے افراد کو ویسا ہی قبول کیا جائے جیسے وہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دوست پیغام بھیجنا بھول جائے، دیر سے آئے یا کسی کا یومِ پیدائش یاد نہ رکھ پائے تو اسے لازماً بے پروائی یا عدم دلچسپی کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی میں عام پنکھا بھی ایئرکنڈیشنر جیسی ٹھنڈک دے سکتا ہے، بس یہ طریقے اپنالیں

ان کے مطابق بعض اوقات یہ مسائل وقت کے احساس اور روزمرہ امور کو منظم کرنے کی مشکلات سے متعلق ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات پر شرمندگی پیدا ہونے سے فرد ایک ایسے چکر میں پھنس سکتا ہے جس میں وہ مزید لوگوں سے رابطہ کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔

انہوں نے دوستوں اور خاندان کے افراد پر زور دیا کہ وہ ایسے رویوں کو ذاتی طور پر نہ لیں بلکہ سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کریں۔

ان کے مطابق دوسروں کے ساتھ نرمی برتنے سے اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والے افراد بھی اپنے ساتھ زیادہ نرمی کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

گھر کے ہرکام کا ’ٹھیکہ‘ خواتین کیوں لیں؟

خواتین کے لیے اپنے تجربے کی بنیاد پر مشورہ دیتے ہوئے پروفیسر ہارٹمن نے کہا کہ خواتین اکثر بہت سی ذمہ داریاں اپنے ذمے لے لیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت

ان کے مطابق معاشرتی توقعات خواتین کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ انہیں ہر کام خود کرنا چاہیے خواہ وہ بچوں کے اسکول کے پروگرام ہوں، تقریبات کی تیاری ہو یا گھر کے دیگر معاملات۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انہیں ہر کام خود کرنے کی ضرورت نہیں۔

ان کے مطابق دوسروں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اپنی صحت، ورزش اور ان سرگرمیوں کے لیے بھی وقت نکالنا ضروری ہے جو انہیں توانائی فراہم کرتی ہیں کیونکہ اگر انسان خود اپنا خیال نہ رکھے تو مسلسل دوسروں کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ماہر کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی کو سمجھنے اور اپنی شخصیت اور ضروریات کو قبول کرنے سے فرد کو اپنی زندگی زیادہ حقیقت پسندانہ اور مطمئن انداز میں گزارنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا ’مخصوص دنوں‘ میں خواتین درد کش دوا کا درست انتخاب کرتی ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی شناخت یا تشخیص سے بے چینی اور ڈپریشن لازماً ختم نہیں ہوجاتے لیکن اپنے بارے میں بہتر سمجھ بوجھ حاصل کرنا زیادہ بامعنی اور اپنی اصل شخصیت کے مطابق زندگی گزارنے کی جانب ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp