ہم کیا کھاتے ہیں یہ ہماری صحت کے لیے اہم ہے لیکن نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ہم کب کھاتے ہیں یہ بھی اتنا ہی اہم ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کی اندرونی گھڑی یا سرکیڈین ردھم اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ہمارا جسم خوراک کو کس طرح ہضم اور استعمال کرتا ہے۔
اس لیے ممکن ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ کھانے کے اوقات ہی غلط ترتیب سے اپنا رہے ہوں۔ اسپین میں عام طور پر دن کا سب سے بڑا کھانا دوپہر کے وقت کھایا جاتا ہے جبکہ رات کا کھانا نسبتاً ہلکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس برطانیہ اور امریکا میں دوپہر کا کھانا نسبتاً ہلکا اور شام کا کھانا زیادہ بھاری ہوتا ہے۔
غذائیت اور جسمانی گھڑی کے باہمی تعلق کے مطالعے کو کرونو نیوٹریشن کہا جاتا ہے۔ اس شعبے میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کا وقت موٹاپے، خون میں شکر کی سطح، میٹابولزم اور ممکنہ طور پر دل کی صحت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
جلدی کھانا وزن کم کرنے میں مددگار؟
اسپین کی یونیورسٹی آف مرسیا سے وابستہ محقق مارٹا گاراولیت کو کھانے کے اوقات اور وزن کے درمیان تعلق میں اس وقت دلچسپی پیدا ہوئی جب انہوں نے اپنے وزن کم کرنے والے کلینک میں 2 مریضوں کا مشاہدہ کیا۔
مزید پڑھیے: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں
دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور تقریباً ایک جیسی غذا کھاتے تھے لیکن ایک شخص دوپہر کا کھانا تقریباً ایک بجے کھاتا تھا جبکہ دوسرے کو اپنی کلاسز کی وجہ سے دیر سے کھانا پڑتا تھا۔
6 ہفتوں کے بعد پہلے شخص نے زیادہ وزن کم کیا۔
بعد ازاں گاراولیت اور ان کے ساتھیوں نے اسپین میں وزن کم کرنے کے پروگرام میں شامل 420 بالغ افراد کا 20 ہفتوں تک جائزہ لیا۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ جو افراد دوپہر کا کھانا نسبتاً جلد کھاتے تھے انہوں نے دیر سے کھانا کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ وزن کم کیا اور ان کا وزن بھی تیزی سے کم ہوا۔
ایک اور چھوٹی باقاعدہ طبی تحقیق میں 32 صحت مند خواتین کو 2 ہفتے تک ایک جیسی غذا دی گئی۔ جن خواتین نے دوپہر کا کھانا دیر سے کھایا ان میں خون میں شکر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کم دیکھی گئی اور انہوں نے کاربوہائیڈریٹس بھی کم جلائے۔
رات دیر سے کھانے سے خون میں شکر کیوں بڑھتی ہے؟
ماہرین کے مطابق ہمارا جسم صبح اور شام ایک جیسا کام نہیں کرتا۔
مزید پڑھیں: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت
بوسٹن کے بریگھم اینڈ وومنز اسپتال سے وابستہ نیورو سائنس دان اور طب کے پروفیسر فرینک شیر کے مطابق جسم کی اندرونی گھڑی ہمارے جسمانی نظام کے تقریباً تمام پہلوؤں کو منظم کرتی ہے۔
اگر ہم ایسے وقت میں کھانا کھائیں جب جسم کی گھڑی اسے سونے کا وقت سمجھ رہی ہو تو جسم کے قدرتی نظام اور کھانے کے وقت میں ایک طرح کا تضاد پیدا ہو سکتا ہے جسے سرکیڈین مس الائنمنٹ کہا جاتا ہے۔
سنہ2022 میں 800 سے زیادہ بالغ افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق میں شرکا کو ایسا مشروب دیا گیا جس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار عام شام کے کھانے کے برابر تھی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جب یہ مشروب سونے سے صرف ایک گھنٹہ پہلے پیا گیا تو جسم نے اسے 4 گھنٹے پہلے پینے کے مقابلے میں کم مؤثر انداز میں پروسیس کیا۔
یہ بھی پڑھیے: صحت بخش غذا کھانے کے لیے خود کو دھوکا دینے کے چند آسان طریقے
سونے کے قریب مشروب پینے والے افراد میں خون میں شکر کی سطح زیادہ رہی اور ان کے جسم نے انسولین بھی کم بنی۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں شکر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
محققین کے مطابق اس عمل میں میلاٹونن نامی ہارمون بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے جس کی مقدار جسم کے سونے کی تیاری کے دوران بڑھ جاتی ہے۔
فرینک شیر کا کہنا ہے کہ اگر شام کے وقت میلاٹونن کی سطح بلند ہونے کے دوران کھانا کھایا جائے تو جسم میں گلوکوز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
دیر سے کھانا بھوک بھی بڑھا سکتا ہے
رات دیر سے کھانے کے اثرات صرف خون میں شکر تک محدود نہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دیر سے کھانا اگلے دن زیادہ بھوک لگنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز میں تبدیلی ہے۔
دیر سے کھانے والے افراد کے جسم میں لیپٹِن کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو دماغ کو بتاتا ہے کہ جسم کو کافی خوراک مل چکی ہے اور اب پیٹ بھر گیا ہے۔
مزید پڑھیں: خوراک خریدنے سے پہلے معلومات چیک کرنے والی ایپس واقعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں؟
کھانے کا وقت اس بات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے کہ جسم چربی کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دیر سے کھانے کی صورت میں جسم چربی کو جلانے کے بجائے اسے ذخیرہ کرنے کی طرف زیادہ مائل ہو سکتا ہے۔
تقریباً 1,200 افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بھی دیر سے کھانا ان افراد میں زیادہ باڈی ماس انڈیکس سے منسلک پایا گیا جن میں جینیاتی طور پر موٹاپے کا خطرہ زیادہ تھا جبکہ نسبتاً جلد کھانا اس خطرے میں کمی سے وابستہ تھا۔
جلد ناشتہ اور رات کا ہلکا کھانا؟
کھانے کے اوقات کا تعلق دل کی صحت سے بھی سامنے آیا ہے۔
فرانس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ دیر سے ناشتہ کرتے تھے ان میں دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ تھا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ رات کا کھانا جلد کھانے اور اگلی صبح ناشتہ دیر سے کرنے کے نتیجے میں رات بھر کا وقفہ طویل ہونے سے دل کی صحت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہو سکتا ہے جو رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں کیونکہ ان کی جسمانی گھڑی میں خلل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
آپ کا روٹین کیا ہے؟
ہر شخص کے لیے کھانے کا مثالی وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔
ماہرین انسانی کرونو ٹائپ یعنی جسم کی قدرتی ترجیح کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ کچھ افراد صبح کے وقت زیادہ فعال ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر ’مارننگ لَارک‘ کہا جاتا ہے جبکہ کچھ لوگ رات کے وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور انہیں ’نائٹ آؤل‘ کہا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق صبح جلد بیدار ہونے والے افراد عموماً کھانے کے اوقات بھی پہلے رکھتے ہیں جبکہ رات دیر تک جاگنے والے افراد کھانے میں تاخیر کرتے اور شام کے وقت زیادہ کیلوریز والی غذائیں کھانے کا رجحان رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صبح کے اوقات میں جسم کی انسولین کے لیے حساسیت بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے جبکہ رات دیر سے کھانے والے افراد خون میں شکر کو کنٹرول کرنے اور وزن بڑھنے کے حوالے سے زیادہ خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روز مرہ خوراک میں شامل وہ 8 اجزا جو دل کے امراض کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں
نیند بھی اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں بھوک اور میٹھی یا زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی خواہش بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رات کا کھانا کب کھائیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا ایک مخصوص بہترین وقت نہیں ہے کیونکہ ہر شخص کی روزمرہ مصروفیات اور جسمانی گھڑی مختلف ہوتی ہے۔
تاہم عمومی طور پر مشورہ یہ ہے کہ دن کا سب سے بڑا کھانا نسبتاً پہلے کھایا جائے اور رات کا کھانا ہلکا رکھا جائے۔
ماہرین فائبر سے بھرپور کاربوہائیڈریٹس مثلاً ثابت اناج، دالیں، لوبیا، مٹر اور پھل دن کے پہلے حصے میں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس وقت جسم انہیں نسبتاً بہتر انداز میں پروسیس کرتا ہے۔
شام کے وقت نسبتاً ہلکی اور پروٹین سے بھرپور غذا بہتر انتخاب ہو سکتی ہے۔ ماہرین بعض ایسی غذاؤں کو بھی مفید قرار دیتے ہیں جو نیند کو سہارا دے سکتی ہیں جن میں گری دار میوے اور بیج جبکہ ٹرپٹوفین سے بھرپور پروٹین جیسے مرغی، سالمن اور ٹونا شامل ہیں۔
حتمی مشورہ یہ ہے کہ رات کا کھانا سونے سے کم از کم 3 گھنٹے پہلے کھانے کی کوشش کی جائے۔
مزید پڑھیے: خوراکی باقیات سے پنیر، گوشت اور دیگر غذائیں تیار، خوراک کا ضیاع روکنے میں اہم پیشرفت
یعنی سوال کا جواب یہ نہیں کہ رات کا کھانا لازماً 7، 8 یا 9 بجے کھایا جائے بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بہت دیر سے کھانے سے گریز کیا جائے، کھانے کے اوقات نسبتاً باقاعدہ رکھے جائیں اور دن کا بڑا کھانا جسم کی قدرتی گھڑی کے مطابق پہلے حصے میں لیا جائے۔














