خیبر پختونخوا کے پرامن ضلع لوئر چترال کی ایک مقامی عدالت نے 22 سال پرانے دوہرے قتل کے جرم میں ایک شخص کو 2 بار عمر قید اور ڈکیتی پر اضافی 4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لوئر چترال نے 22 سال قبل ہونے والے قتل کے مقدمے کا ٹرائل مکمل کرکے فیصلہ سنایا، جس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے شخص کو 2 بار عمر قید کی سزا دی گئی۔
مزید پڑھیں:3 بچوں کے قتل کا مقدمہ، امریکی خاتون لنڈسے کلینسی کا ٹرائل بے نتیجہ ختم
عدالت میں پیش کیے گئے پولیس دستاویزات کے مطابق دوہرا قتل کا واقعہ 16 اکتوبر 2002 کو دنیا کے سب سے بلند قدرتی پولو گراؤنڈ شندور کے قریب پیش آیا تھا۔ جہاں چترال سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور اور ان کے ساتھی کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ قتل کے بعد ملزمان گاڑی لے کر فرار ہو گئے تھے۔
قتل کے واقعے کا مقدمہ تھانہ مستوج میں درج کیا گیا تھا جس میں پی پی سی کی دفعات 302 اور 396 شامل تھیں۔
ٹرائل کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے 16 اکتوبر 2002 کو شندور کے مقام ’ماس جنالی‘ کے قریب، چیو ڈوک لوئر چترال کے رہائشی ٹیکسی ڈرائیور اعظم خان اور سکندر شاہ کو گاڑی چھیننے کی کوش کے دوران قتل کیا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ انہوں نے چترال سے گلگت کے لیے گاڑی بک کروائی اور روانہ ہوئے۔ جب گاڑی شندور کے مقام پر پہنچی تو ملزمان نے ڈرائیور سے گاڑی چھیننے کی کوشش کی۔ اور مزاحمت پر انہوں نے ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو پتھر مار کر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
علاقے کے سنسان اور آمد و رفت کم ہونے کی وجہ سے ملزمان قتل کے بعد آسانی سے گاڑی لے کر فرار ہو گئے تھے۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ دوہرے قتل میں ملوث ملزم شازیب مفرور تھا، تاہم پولیس نے اپریل 2024 میں اسے گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا۔
مزید پڑھیں: علی رضا عابدی کے بعد میر رضا قتل کیس میں بھی ایپل ڈیوائسز کی ڈی کوڈنگ معمہ بن گئی
مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ، گواہوں کے بیانات، شواہد اور دیگر قانونی تقاضوں کی روشنی میں ملزم پر جرم ثابت ہو گیا ہے۔
عدالت نے دوہرے قتل پر مجرم کو 2 بار عمر قید کی سزا سنادی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ مجرم دونوں مقتولین کے ورثا کو ایک ایک ملین روپے بطور معاوضہ ادا کرے جبکہ ڈکیتی کے جرم میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 396 کے تحت مجرم کو 4 سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔














