خیبر پختونخوا: 22 سال پرانے دوہرے قتل میں مجرم کو دوبار عمر قید کی سزا، کیس میں تاخیر کیوں ہوئی؟

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے پرامن ضلع لوئر چترال کی ایک مقامی عدالت نے 22 سال پرانے دوہرے قتل کے جرم میں ایک شخص کو 2 بار عمر قید اور ڈکیتی پر اضافی 4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لوئر چترال نے 22 سال قبل ہونے والے قتل کے مقدمے کا ٹرائل مکمل کرکے فیصلہ سنایا، جس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے شخص کو 2 بار عمر قید کی سزا دی گئی۔

مزید پڑھیں:3 بچوں کے قتل کا مقدمہ، امریکی خاتون لنڈسے کلینسی کا ٹرائل بے نتیجہ ختم

عدالت میں پیش کیے گئے پولیس دستاویزات کے مطابق دوہرا قتل کا واقعہ 16 اکتوبر 2002 کو دنیا کے سب سے بلند قدرتی پولو گراؤنڈ شندور کے قریب پیش آیا تھا۔ جہاں چترال سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور اور ان کے ساتھی کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ قتل کے بعد ملزمان گاڑی لے کر فرار ہو گئے تھے۔

قتل کے واقعے کا مقدمہ تھانہ مستوج میں درج کیا گیا تھا جس میں پی پی سی کی دفعات 302 اور 396 شامل تھیں۔

ٹرائل کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے 16 اکتوبر 2002 کو شندور کے مقام ’ماس جنالی‘ کے قریب، چیو ڈوک لوئر چترال کے رہائشی ٹیکسی ڈرائیور اعظم خان اور سکندر شاہ کو گاڑی چھیننے کی کوش کے دوران قتل کیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ انہوں نے چترال سے گلگت کے لیے گاڑی بک کروائی اور روانہ ہوئے۔ جب گاڑی شندور کے مقام پر پہنچی تو ملزمان نے ڈرائیور سے گاڑی چھیننے کی کوشش کی۔ اور مزاحمت پر انہوں نے ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو پتھر مار کر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

علاقے کے سنسان اور آمد و رفت کم ہونے کی وجہ سے ملزمان قتل کے بعد آسانی سے گاڑی لے کر فرار ہو گئے تھے۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ دوہرے قتل میں ملوث ملزم شازیب مفرور تھا، تاہم پولیس نے اپریل 2024 میں اسے گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا۔

مزید پڑھیں: علی رضا عابدی کے بعد میر رضا قتل کیس میں بھی ایپل ڈیوائسز کی ڈی کوڈنگ معمہ بن گئی

مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ، گواہوں کے بیانات، شواہد اور دیگر قانونی تقاضوں کی روشنی میں ملزم پر جرم ثابت ہو گیا ہے۔

عدالت نے دوہرے قتل پر مجرم  کو 2 بار عمر قید کی سزا سنادی۔  عدالت نے مزید حکم دیا کہ مجرم دونوں مقتولین کے ورثا کو ایک ایک ملین روپے بطور معاوضہ ادا کرے جبکہ ڈکیتی کے جرم میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 396 کے تحت مجرم کو 4 سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیا کریئیٹرز پر ٹیکس کا نیا طریقہ متعارف: یوٹیوب کے ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن شمار ہوگی

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا