علی رضا عابدی کے بعد میر رضا قتل کیس میں بھی ایپل ڈیوائسز کی ڈی کوڈنگ معمہ بن گئی

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کی دنیا میں سراپا راز تسلیم کیے جانے والے ’ایپل‘ کمپنی کے انکرپشن پروٹوکولز اور صارفین کی پرائیویسی پالیسی نے ایک بار پھر سنگین جرائم اور قتل کی تحقیقات میں بالادستی حاصل کرلی ہے۔

کراچی میں سابق رکن قومی اسمبلی اور ایم کیو ایم رہنما سید علی رضا عابدی کے قتل کیس میں سامنے آنے والے آئی فون انکرپشن کے دیرینہ مسئلے کے بعد حال ہی میں میر رضا قتل کیس میں بھی ‘ایپل واچ’ اور ‘آئی فون’ کو ڈی کوڈ کرنے کا عمل تفتیشی اداروں کے لیے ایک پیچیدہ معمہ بن کر سامنے آیا ہے۔

سید علی رضا عابدی قتل کیس: جب ایپل نے عدالتی احکامات کے باوجود فون ان لاک نہ کیا

25 دسمبر 2018 کی رات کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں ایم کیو ایم کے سابق رہنما سید علی رضا عابدی کو ان کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ہائی پروفائل قتل کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس اور انسداد دہشتگردی شعبے (سی ٹی ڈی) کو سب سے بڑی رکاوٹ مقتول کے زیر استعمال آئی فون کو ان لاک کرنے میں پیش آئی۔

تحقیقاتی اداروں کا مؤقف

پولیس کا ماننا تھا کہ علی رضا عابدی کے فون میں موجود کال ریکارڈز، واٹس ایپ ڈیٹا اور انکرپٹڈ میسجز کیس کی اہم کڑی اور قاتلوں تک پہنچنے کا واحد ذریعہ بن سکتے ہیں۔

عدالتی احکامات اور بین الاقوامی خط و کتابت

کراچی کی عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر ایپل کمپنی کو ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنے سے متعلق احکامات جاری کیے۔ بعد ازاں وزارتِ داخلہ اور متعلقہ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا گیا۔

ایپل کا مؤقف

امریکی ٹیک جائنٹ ایپل نے عالمی پالیسی کے تحت عدالت اور تفتیشی اداروں کے احکامات کے باوجود ڈیٹا ان لاک کرنے یا بائی پاس کرنے سے انکار کردیا۔

کمپنی کا مؤقف تھا کہ ان کے آپریٹنگ سسٹم کا سیکیورٹی فریم ورک اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ بغیر پاس کوڈ ڈیٹا تک رسائی ناممکن ہے اور کوئی بیک ڈور فراہم کرنا عالمی سطح پر تمام صارفین کی پرائیویسی پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہوگا۔

اس تگ و دو اور قانونی و فنی کوششوں کے باوجود سید علی رضا عابدی کے آئی فون کا معمہ پولیس کے لیے ایک ڈیجیٹل بلائنڈ اسپاٹ بن کر رہ گیا۔

میر رضا کیس: ایپل واچ اور آئی فون ڈی کوڈنگ کا نیا چیلنج

سید علی رضا عابدی کیس کا یہ نامکمل ڈیجیٹل باب ایک بار پھر میر رضا کے کیس میں تازہ ہو گیا ہے۔

میر رضا کے پراسرار قتل کی تحقیقات کے دوران تفتیشی ٹیموں کو جہاں روایتی شواہد کی تلاش ہے، وہیں جدید فارنزک کے لیے مقتول کے زیر استعمال ‘ایپل واچ’ اور ‘آئی فون’ کو کلیدی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔

سمارٹ واچ اور فون سے توقعات

جديد ایپل واچ میں بائیو میٹرک ڈیٹا، لوکیشن ہسٹری، دل کی دھڑکن کے وقت کا ریکارڈ جو وقتِ مرگ کے تعین میں معاون ثابت ہوتا ہے اور این آئی سی یو/نوٹیفکیشن ہسٹری محفوظ ہوتی ہے۔

تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ان دونوں آلات کا ڈیٹا بحال ہو جائے تو آخری لمحات کی حرکات و سکنات اور رابطے بے نقاب ہو سکتے ہیں۔

ٹیکنیکل رکاوٹیں

ایپل کے آلات کی بائیومیٹرک سیکیورٹی (فیس آئی ڈی / پاس کوڈ) اور کلاؤڈ انکرپشن کی وجہ سے مقامی فارنزک لیبارٹریز اور سائبر کرائم ونگز کو ان آلات کو ڈی کوڈ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پرائیویسی بمقابلہ جرم کی تحقیقات: فارنزک ماہرین کا تجزیہ

آئی ٹی ایکسپرٹ محمد فرحان کے مطاجق ایپل کی ‘End-to-End Encryption’ پالیسی پوری دنیا کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔

’امریکی ادارے ایف بی آئی کو بھی پاس کوڈ توڑنے کے لیے کسی اور ملک کا سہارا لینا پڑتا ہے یا اعلیٰ درجے کے نجی فارنزک ٹولز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جن کی رسائی اور لاگت پاکستان جیسے ملک کے پولیس محکموں کے لیے انتہائی مشکل ہے۔‘

محمد فرحان کے مطابق قتل جیسے واقعات یا کسی بھی جرم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پاکستان میں ڈیجیٹل فارنزک قانون سازی، بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ حکومتی سطح پر ایس او پیز کی تشکیل اور جدید سمارٹ ڈیوائسز سے ڈیٹا کی بحالی جیسے معاملات کو دیکھنا پڑے گا، تا کہ سنگین نوعیت کے واقعات کے بعد شواہد کے لیے ان فونز تک رسائی ممکن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی

’آج بھی خود کو بس کنڈکٹر سمجھتا ہوں‘، رجنی کانت نے بس کنڈکٹر کی ملازمت کو اداکاری سے بہتر کیوں قرار دیا؟

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟