دل کا دورہ پڑنے کے بعد مریض کے لیے ہر گزرتا ہوا منٹ اہم ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر علاج کے لیے اسے اپنے ضلع سے کسی بڑے شہر کا سفر کرنا پڑے تو یہ فاصلہ صرف چند کلومیٹر کا نہیں رہتا، بلکہ زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں پنجاب کے ضلع جھنگ میں قائم کی گئی کیتھ لیب محض ایک نئی طبی سہولت نہیں بلکہ ضلع کی سطح پر دل کے ہنگامی علاج تک رسائی کے ایک نئے ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔
جھنگ کی کیتھ لیب نے 10 جنوری 2026 کو اپنا پہلا پروسیجر کیا، جبکہ 21 جنوری 2026 کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال جھنگ میں اس جدید کیتھ لیب کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ پنجاب حکومت کے مطابق اس سہولت کا بنیادی مقصد دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں قلبی علاج تک بروقت رسائی کو بہتر بنانا اور بڑے شہروں کے اسپتالوں پر دباؤ کم کرنا تھا۔
اب تقریباً آٹھ ماہ کی کارکردگی کے اعداد و شمار سامنے ہیں، جو اس منصوبے کی اہمیت کو مزید واضح کرتے ہیں۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کی کیتھ لیب کے ڈائریکٹر اور سربراہ شعبۂ انجیوگرافی ڈاکٹر اطہر رؤف رانا کے مطابق اب تک 2,500 سے زائد انجیوگرافیاں اور 1,000 سے زائد انجیوپلاسٹیاں کی جا چکی ہیں، جن میں پرائمری پی سی آئی کے کیسز بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق جھنگ کی کیتھ لیب 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن خدمات فراہم کر رہی ہے اور ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی ضلعی کیتھ لیبز میں جھنگ کا مرکز سب سے زیادہ پروسیجرز کرنے والی لیب ہے۔

چند منٹ جو زندگی بچا سکتے ہیں
دل کے دورے کی صورت میں دل کی شریان میں خون کی روانی متاثر یا بند ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جتنی جلد شریان کو کھولا جائے، اتنا ہی دل کے پٹھوں کو مستقل نقصان سے بچانے کا امکان بڑھتا ہے۔
پنجاب حکومت نے ضلعی کیتھ لیبز کے قیام کا ایک اہم مقصد یہی قرار دیا ہے کہ دل کے دورے کے مریض کو 60 سے 90 منٹ کی گولڈن ونڈو میں ضروری طبی مداخلت میسر آ سکے۔ ضلع کی سطح پر انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی اور پرائمری PCI کی سہولت اسی مقصد سے اہم ہو جاتی ہے۔
جھنگ کی کیتھ لیب میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی اور پرائمری PCI کے ساتھ عارضی پیس میکر لگانے کی سہولت بھی موجود ہے۔
یہ وقت اس لیے اہم ہے کہ اگر مریض کو پہلے جھنگ سے فیصل آباد، ملتان، لاہور یا کسی دوسرے بڑے شہر منتقل کیا جائے تو سفر، ریفرل، داخلے اور علاج کے آغاز میں لگنے والا وقت بڑھ سکتا ہے۔
آٹھ ماہ میں 2,500 سے زائد انجیوگرافیاں
جھنگ کی کیتھ لیب کے فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار اس منصوبے کی رفتار کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
10 جنوری 2026 سے اب تک 2,500 سے زائد انجیوگرافیاں اور 1,000 سے زائد انجیوپلاسٹیاں کی جا چکی ہیں۔ ان انجیوپلاسٹی کیسز میں پرائمری PCI بھی شامل ہے۔ کیتھ لیب 24/7 فعال ہے۔
اگر کم از کم 2,500 انجیوگرافیوں کو تقریباً آٹھ ماہ کے عرصے پر تقسیم کیا جائے تو اوسطاً 300 سے زائد انجیوگرافیاں ماہانہ بنتی ہیں۔ اسی طرح 1,000 سے زائد انجیوپلاسٹیاں اوسطاً 125 سے زائد انجیوپلاسٹیاں ماہانہ بنتی ہیں۔
یہ اعداد و شمار کیتھ لیب کی سرگرمی کا حجم ظاہر کرتے ہیں، تاہم انجیوگرافی اور انجیوپلاسٹی کو الگ الگ مریضوں کی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ ایک ہی مریض میں دونوں پروسیجرز ہو سکتے ہیں۔
جھنگ میں کیا بدلا؟
کیتھ لیب کے قیام سے پہلے جھنگ اور گردونواح کے ایسے مریض جنہیں جدید قلبی مداخلت کی ضرورت ہوتی تھی، انہیں بڑے مراکز کی طرف ریفر کیا جاتا تھا۔
اب انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی اور پرائمری PCI جیسی اہم سہولیات ضلع کی سطح پر دستیاب ہیں۔ افتتاح کے موقع پر پنجاب حکومت نے بھی کہا تھا کہ مقامی سطح پر علاج کی سہولت ملنے سے مریضوں کو لاہور یا دیگر بڑے شہروں کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔
یوں جھنگ کی کہانی دراصل علاج کے فاصلے کو کم کرنے کی کہانی ہے۔ لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ مریض کو بیماری ہونے کے بعد کتنی جلدی علاج ملتا ہے۔
اصل سوال یہ بھی ہے کہ دل کی بیماری کے مریضوں کی تعداد کو ہی کیسے کم کیا جائے؟
صرف مشینیں نہیں، بیماری کا بوجھ بھی کم کرنا ہوگا
کیتھ لیب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اطہر رؤف رانا کے مطابق حکومت نے ضلع کی سطح پر جدید قلبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم کام کیا ہے، لیکن صرف مزید کیتھ لیبز اور جدید مشینری نصب کر دینے سے دل کی بیماریوں کا مجموعی بوجھ کم نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس کے لیے Primary Prevention یعنی بیماری سے پہلے بچاؤ پر توجہ دینا ضروری ہے۔
ڈاکٹر اطہر رؤف رانا کا کہنا ہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر کو بروقت کنٹرول کرنا، سگریٹ نوشی کو کم یا ختم کرنا، جسمانی سرگرمی اور ورزش میں اضافہ کرنا اور زندگی کے دیگر قابلِ تبدیلی خطرات کو کم کرنا وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے دل کی بیماریوں کے اعداد و شمار میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ بھی قلبی بیماریوں کی روک تھام میں تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا، موٹاپے اور جسمانی سرگرمی کی کمی جیسے رویوں کو اہم قابلِ تبدیلی خطرات قرار دیتا ہے۔
ڈاکٹر اطہر کے مطابق بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ بیماری کو اس وقت صرف علاج کیا جائے جب مریض دل کا مریض بن چکا ہو، بلکہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بیماری کو روکا جائے یا زیادہ سے زیادہ مؤخر کیا جائے۔
کیونکہ ایک مرتبہ کوئی شخص دل کا مریض بن جائے تو اسے طویل عرصے تک، بعض صورتوں میں زندگی بھر، ادویات اور طبی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس لیے دل کے علاج کے ساتھ ساتھ معاشرے میں صحت مند طرزِ زندگی، باقاعدہ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز، بلڈ پریشر اور شوگر کی باقاعدہ جانچ اور بروقت علاج کو بھی صحت عامہ کی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔

عارضی پیس میکر سے مستقل پیس میکر تک
جھنگ کی کیتھ لیب کے مستقبل کے حوالے سے ڈاکٹر اطہر رؤف رانا نے ایک اور اہم ضرورت کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو جھنگ میں Permanent Pacemaker کی سہولت بھی فراہم کرنی چاہیے تاکہ ایسے مریضوں کا علاج ضلع ہی میں ممکن ہو سکے جنہیں مستقل پیس میکر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس وقت بڑے ٹرشری کیئر اسپتالوں میں مستقل پیس میکر کے لیے مریضوں کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر اطہر کے مطابق بعض مریض اپنی باری کے انتظار میں کئی ہفتے، حتیٰ کہ بعض حالات میں تقریباً ایک ماہ تک انتظار کرتے ہیں۔
اگر جھنگ میں مستقل پیس میکر لگانے کی سہولت شروع ہو جائے تو ایسے مریضوں کو بڑے شہروں کے اسپتالوں کا رخ کرنے اور طویل انتظار سے بچایا جا سکتا ہے۔
اس طرح کی سہولت صرف علاج کا فاصلہ نہیں کم کرے گی بلکہ بروقت مداخلت کے ذریعے جانیں بچانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ یوں جھنگ کی کیتھ لیب کے لیے اگلا مرحلہ صرف زیادہ انجیوگرافی یا انجیوپلاسٹی نہیں بلکہ قلبی علاج کے مکمل نظام کی طرف پیش قدمی ہو سکتا ہے۔
پنجاب میں 16 کیتھ لیبز
جھنگ کی کہانی صرف ایک ضلع تک محدود نہیں۔
پنجاب حکومت نے ضلعی سطح پر کیتھ لیبز کے ذریعے قلبی علاج کا دائرہ وسیع کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ جنوری 2026 میں وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا تھا کہ 16 کیتھ لیبز لانچ کی جا چکی ہیں۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دل کے مریضوں کو ہر ہنگامی صورتحال میں بڑے شہروں کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور ضلعی سطح پر ہی جدید قلبی مداخلت دستیاب ہو۔
جنوری میں حکومت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ضلعی کیتھ لیبز میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی اور پرائمری PCI کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ان کا مقصد بڑے ٹرشری اسپتالوں پر دباؤ کم کرنا بھی ہے۔
اب جھنگ کے اعداد ایک اور سوال پیدا کرتے ہیں۔ اگر ایک ضلعی کیتھ لیب تقریباً آٹھ ماہ میں ہزاروں قلبی پروسیجرز کر سکتی ہے تو پنجاب کی تمام ضلعی کیتھ لیبز مجموعی طور پر کتنے مریضوں کو بڑے شہروں کا سفر کرنے سے بچا رہی ہیں؟۔ اس سوال کا صوبائی سطح پر مرتب کیا گیا ڈیٹا اس پورے منصوبے کے اثرات کی زیادہ واضح تصویر پیش کر سکتا ہے۔
16 ستمبر اور جھنگ کا تعلق
یہاں جھنگ کی کیتھ لیب کی کہانی 16 ستمبر، International Day for Interventional Cardiology سے جڑ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ نے 16 ستمبر کو International Day for Interventional Cardiology قرار دیا ہے۔ اس دن کا مقصد قلبی بیماریوں، ان کے علاج، پیچیدگیوں، بچاؤ اور نگہداشت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
16 ستمبر کا انتخاب بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی تاریخ کو 1977 میں ڈاکٹر اینڈریاس گرونٹزگ نے پہلی کورونری انجیوپلاسٹی انجام دی تھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2022 میں 16 ستمبر کو انٹرنیشنل ڈے فار انٹروینشنل کارڈیالوجی قرار دیا۔
یعنی 16 ستمبر صرف ایک طبی شعبے کی کامیابی کا دن نہیں بلکہ یہ یاد دہانی بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے دل کے مریضوں کے علاج کے امکانات کو کس حد تک تبدیل کیا ہے۔
عالمی تصویر میں دل کی بیماری کا بوجھ
اقوام متحدہ کے مطابق 2019 میں دنیا بھر میں تقریباً 17.9 ملین افراد قلبی بیماریوں کے باعث جان سے گئے، جو اس سال دنیا بھر میں ہونے والی تمام اموات کا تقریباً 32 فیصد تھیں۔ ان میں سے تقریباً 85 فیصد اموات دل کے دورے اور فالج کے باعث ہوئیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں قلبی بیماریاں موت کی سب سے بڑی وجوہ میں شامل ہیں اور ان کا بڑا حصہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں واقع ہوتا ہے۔ اسی لیے جدید علاج تک رسائی کے ساتھ ساتھ روک تھام بھی انتہائی اہم ہے۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ دل کی بیماری صرف فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا عالمی صحت کا چیلنج ہے۔
اصل کامیابی کیا ہے؟
جھنگ کی کیتھ لیب نے ایک اہم سوال کا جواب دے دیا ہے۔ اگر دل کے مریض کو علاج اس کے اپنے ضلع میں مل جائے تو کیا اس کی جان بچانے کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں؟۔ جواب یقیناً ہاں ہے، خاص طور پر اس وقت جب علاج گولڈن ونڈو کے اندر شروع ہو جائے۔
لیکن ڈاکٹر اطہر رؤف رانا کی گفتگو اس کے ساتھ ایک دوسرا اور زیادہ بنیادی سوال بھی سامنے رکھتی ہے۔ کیا ہم ایسے مریضوں کی تعداد بھی کم کر سکتے ہیں جنہیں کیتھ لیب تک پہنچنے کی ضرورت پڑتی ہے؟ ۔ اس کا جواب کیتھ لیب کی مشین میں نہیں بلکہ Primary Prevention میں چھپا ہے۔ شوگر اور بلڈ پریشر پر قابو، سگریٹ نوشی میں کمی، جسمانی سرگرمی میں اضافہ، صحت مند طرزِ زندگی اور بروقت طبی معائنہ وہ اقدامات ہیں جو بیماری کے بوجھ کو بنیادی سطح پر کم کر سکتے ہیں۔ اور اگر اس کے ساتھ جھنگ جیسے اضلاع میں Permanent Pacemaker سمیت قلبی علاج کی مزید سہولیات بھی دستیاب ہو جائیں تو ضلع کی سطح پر دل کے مریضوں کے لیے ایک زیادہ مکمل نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ کسی مریض کے لیے فیصل آباد، ملتان یا لاہور تک کا فاصلہ صرف سفر نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ چند قیمتی منٹوں کا سوال ہوتا ہے۔
دل انتظار نہیں کرتا، اور دل کے علاج کو بھی انتظار کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














