پاکستان کی سینئر اداکارہ افشاں قریشی نے شوہر کے انتقال کے بعد پیش آنے والی مالی مشکلات اور اپنی زندگی کے مشکل ترین دور کے بارے میں پہلی بار کھل کر گفتگو کی ہے۔
افشاں قریشی نے نادیہ خان کے مارننگ شو ’رائز اینڈ شائن‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی میں آنے والے نشیب و فراز اور مشکل حالات کا ذکر کیا۔
View this post on Instagram
اداکارہ نے بتایا کہ وہ 1980 میں کراچی منتقل ہوئی تھیں جہاں انہوں نے آدم جی ہال میں اپنا ڈراما پروڈیوس کیا، تاہم فنکاروں کے عدم تعاون اور پیشگی معاوضے کے مطالبے کے باعث انہیں شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
افشاں قریشی کے مطابق ڈرامے میں کام کرنے والے فنکاروں نے پیشگی رقم کا مطالبہ کیا، جس کے لیے انہوں نے اپنی گاڑیاں تک فروخت کردیں اور فنکاروں کو ادائیگیاں کیں، تاہم بعد میں کچھ فنکار ڈراما چھوڑ کر چلے گئے، جس سے انہیں مزید نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: اب تک ستارہ امتیاز نہ ملنے پر اداکار فیصل قریشی کا شکوہ
اداکارہ نے بتایا کہ اس دوران انہیں قرض بھی ادا کرنا تھا اور زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے مختلف کام کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ محنت سے کبھی نہیں گھبرائیں اور تقریباً چار ماہ تک میکرامے کی اشیا تیار کرکے انہیں مینا بازار میں فروخت کرتی رہیں۔
افشاں قریشی نے اپنی زندگی کے ایک جذباتی لمحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن انہوں نے نماز میں رو کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی، جس کے بعد انہیں اپنے ڈائریکٹر کی فون کال موصول ہوئی۔
اداکارہ کے مطابق ڈائریکٹر نے فون پر کہا، کہاں ہو افشاں؟ آؤ، ہمارے پاس تمہارے لیے ایک ڈراما ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس کا مقابلہ کرسکتے ہیں، فیصل قریشی
افشاں قریشی کے مطابق اس فون کال کے بعد ان کے لیے دوبارہ کام کے دروازے کھلے اور انہوں نے اپنی محنت سے شوبز میں قدم مضبوط کیے۔
واضح رہے کہ افشاں قریشی معروف پاکستانی اداکار فیصل قریشی کی والدہ ہیں اور متعدد مقبول ڈراموں میں اپنی جاندار اداکاری کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔














