دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ڈرونز کو جان بوجھ کر نشانہ بنا کر ان سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور امریکی نگرانی و دفاعی نظام کی صلاحیتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی ڈرون ساز کمپنی ڈریگن فلائی کے چیف ایگزیکٹو کیمرون چیل کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی بغیر پائلٹ نظام کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوششیں محض اتفاقی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان
ان کے بقول کسی ڈرون تک مختصر رسائی بھی ایران کو امریکی بحریہ کے آپریشنز، نگرانی کے طریقہ کار اور استعمال ہونے والے سینسرز کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
فوکس نیوز کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 14 ستمبر کو امریکی فوج نے 2 ایرانی چھوٹی کشتیوں کو تباہ کیا۔
Iran snatched a US underwater drone.
This was rumored yesterday, but we have proof today.
The hi-tech weapon will be reverse-engineered and handed over to the Chinese for study, because the United States provided these models to the Taiwanese in 2024 to spy on the Chinese.… pic.twitter.com/XL36hp3Pdq— Morning Star (@MORNINGSTAR857) September 9, 2026
امریکی حکام کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز نے علاقے میں گشت کرنے والے ایک امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی، تاہم امریکی کارروائی کے نتیجے میں یہ کوشش ناکام ہوگئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی کشتیوں نے امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز پر قبضے کی کوشش کی، تاہم امریکی فورسز کے ردعمل کے بعد وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے جنوبی ایران میں فضائی حملے، ڈرون تنصیبات اور ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ان کے مطابق مذکورہ بحری ڈرون اب بھی امریکی آپریشنل کنٹرول میں ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ابتدا میں اس واقعے کو امریکی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہری ماہی گیری کی کشتیاں نشانہ بنی ہیں۔
ایرانی حکام نے کارگان کے ساحل اور لارک جزیرے کے قریب لاپتا مقامی ماہی گیروں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا تھا۔
Iran’s drone hunt escalates as Tehran targets US spy tech to expose battlefield secrets https://t.co/WR4pctP5GF pic.twitter.com/IijuwIpmXh
— World News (@Worldnews_Media) September 16, 2026
کیمرون چیل کے مطابق ایران کسی ڈرون کو اپنے کنٹرول میں لینے کی صورت میں اس کے سینسرز، تکنیکی خصوصیات اور آپریشنل ریکارڈ کا جائزہ لے سکتا ہے۔
اس معلومات سے ایرانی فورسز کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ امریکی نگرانی کا نظام کس طرح کام کرتا ہے، کن علاقوں میں معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں اور مستقبل میں ان نظاموں سے بچنے یا انہیں ناکارہ بنانے کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
یہ پہلا واقعہ نہیں کہ ایران نے امریکی بغیر پائلٹ نظام تک رسائی حاصل کی ہو، 8 ستمبر کو ایران نے ڈائیو ایل ڈی نامی خودکار زیرِ آب ڈرون کو اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایران کا امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
یہ ڈرون امریکی دفاعی کمپنی اینڈوریل نے تیار کیا تھا، کمپنی کے سربراہ پالمر لکی کے مطابق ڈرون ایسے خطرناک ماحول میں آپریشنز کے لیے تیار کیا گیا تھا جہاں انسانی موجودگی ممکن نہیں ہوتی، تاہم امریکی بحریہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک پرانا ماڈل تھا جو خراب ہونے کے بعد پانی میں ہی غیر فعال ہوگیا تھا۔
ایران ماضی میں بھی امریکی ڈرون ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرچکا ہے، 2011 میں ایران نے امریکی آر کیو 170 سینٹینل اسٹیلتھ ڈرون کو نہ صرف اپنے قبضے میں لینے بلکہ اس کی ریورس انجینئرنگ کے ذریعے مقامی ڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بغیر پائلٹ نظام اب خلیجی خطے میں انٹیلیجنس، نگرانی اور عسکری کارروائیوں کا اہم حصہ بن چکے ہیں، جبکہ ان نظاموں تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر رہی ہیں۔














