رواں سال روپیہ مستحکم رہنے کا امکان، اگلے برس کے اختتام پر ڈالر کتنے کا ہوگا؟

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فچ سلوشنز کے ادارے بی ایم آئی نے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے متعلق اپنی پیشگوئی کو 2027 تک مؤخر کر دیا ہے اور سال 2026 کے اختتام کے لیے اپنی سابقہ پیشگوئی 288 روپے فی ڈالر کو تبدیل کر کے 278 روپے فی ڈالر کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی روپیہ بہتری کی سیڑھیاں مسلسل چڑھتا ہوا، آہستہ لیکن مستقل

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق بی ایم آئی نے اس تبدیلی کی وجہ بہتر ہوتے زر مبادلہ ذخائر، سخت مالیاتی پالیسی اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک بہتر رسائی کو قرار دیا ہے۔

ادارے کا اب کہنا ہے کہ روپیہ 2026 کے دوران تقریباً 278 روپے فی ڈالر کی سطح پر رہے گا تاہم سنہ 2027 کے اختتام تک برآمدی مسابقت اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باعث کرنسی پر دباؤ بڑھنے سے یہ کمزور ہو کر 292 روپے فی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب ادارے کی توقع ہے کہ پالیسی ساز روپے کو 2026 کے دوران تقریباً 278 روپے فی ڈالر پر برقرار رکھیں گے نہ کہ اس کی قدر میں کمی کر کے سال کے اختتام تک 288 روپے فی ڈالر تک لے جائیں گے جیسا کہ پہلے اندازہ لگایا گیا تھا۔

بی ایم آئی نے بتایا کہ توانائی کی درآمدات کی بڑھتی ہوئی لاگت اور خاصے حجم کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر میں مسلسل بہتری آنے کے باعث غیر منظم انداز میں کرنسی کی قدر میں کمی کا قریبی مدتی خطرہ کم ہو گیا ہے۔

ادارے کے مطابق برآمدی مسابقت کو بحال کرنے کے لیے پالیسی سازوں کی جانب سے 2027 کے اختتام تک روپے کی قدر میں کمی کر کے اسے تقریباً 292 روپے فی ڈالر تک لے جانے کی توقع ہے۔

بی ایم آئی نے بتایا کہ روپے کی حقیقی مؤثر شرح مبادلہ (ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ) جولائی میں بڑھ کر 8 سال کی بلند ترین سطح 107.9 تک پہنچ گئی جو برآمدی مسابقت کو کمزور کر رہی ہے جبکہ درآمدات کو زیادہ پرکشش بنا رہی ہے۔

مزید پڑھیے: آپریشن سندور کے بعد بھارتی روپیہ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد گر گیا

ادارے کے مطابق یہ عدم توازن اشیاء کی تجارت کے خسارے میں پہلے ہی واضح ہو چکا ہے جو مالی سال 24-2025 میں 29.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 25-2026 میں 39.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا یعنی 34.6 فیصد کا اضافہ۔

بی ایم آئی کا کہنا تھا کہ اب تک ترسیلات زر کی مضبوط آمد نے بیرونی صورتحال میں زیادہ شدید بگاڑ کو روکے رکھا ہے تاہم یہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو غیر معینہ مدت تک متوازن نہیں رکھ سکتیں۔ اسی لیے ادارے کی توقع ہے کہ پالیسی ساز برآمدات اور معاشی نمو کو زیادہ اہمیت دیں گے جبکہ سال 2027 کی دوسری ششماہی میں افراطِ زر کے دباؤ میں کمی آنے سے کرنسی کی قدر میں کمی کے لیے گنجائش پیدا ہوگی۔

تحقیقی ادارے کا کہنا تھا کہ سخت مالیاتی پالیسی روپے کو سہارا دے گی۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے امریکہ-ایران تنازع کے بعد افراط زر میں تیزی آنے پر اپریل میں اپنی پالیسی شرح میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.50 فیصد تک بڑھا دیا تھا۔

بی ایم آئی کے مطابق اگرچہ عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کی بلند قیمتیں مالی سال 27-2026 (جولائی تا جون) کے باقی حصے کے دوران افراط زر کو اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے اوپر رکھیں گی تاہم ادارے کی توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو برقرار رکھے گا تاکہ معاشی نمو پر مزید دباؤ نہ پڑے۔

ادارے کے مطابق اس کے باوجود موجودہ پالیسی شرح 2023-2022 کے بیلنس آف پیمنٹس بحران سے قبل کی 7.00 فیصد کی سطح سے کہیں زیادہ ہے جو سرمائے کے اخراج کی حوصلہ شکنی اور کرنسی کے استحکام میں مدد فراہم کرتی ہے۔ بی ایم آئی کے مطابق مستحکم شرحِ مبادلہ بالآخر درآمدی افراطِ زر کو قابو میں رکھنے اور درمیانی مدت کی افراط زر کی توقعات کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

ادارے نے خبردار کیا کہ اگر ایران امریکا تنازع طویل عرصے تک جاری رہا یا مزید شدت اختیار کر گیا تو عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: خراماں خراماں: روپے کی قدر مسلسل مضبوطی کی سمت گامزن، جانیے یہ سلسلہ کب سے جاری ہے؟

بی ایم آئی کے مطابق اس صورت میں درآمدی بل میں مسلسل اضافہ ہوگا، جو ملک کی بیرونی معاشی صورتحال کو کمزور کرے گا اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خطرے میں اضافہ کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp