بھارتی روپیہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد قدر کھو بیٹھا ہے، جسے ماہرین بھارت کی داخلی معاشی کمزوریوں اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی جریدے ’دی وائر‘ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق یہ تنزلی مئی 2025 میں آپریشن سندور اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے اور بین الاقوامی مبصرین بھی بھارتی معیشت کے مستقبل پر خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
بھارتی روپیہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور ہوا ہے۔ یہ عرصہ مئی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 88 گھنٹے طویل آپریشن سندور کے بعد جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 15 مئی 2025 کو ایک بھارتی روپیہ 3.2913 پاکستانی روپے کے برابر تھا، تاہم 18 مئی 2026 تک اس کی قدر کم ہو کر 2.9010 پاکستانی روپے رہ گئی۔ اس طرح بھارتی کرنسی کی قدر میں مجموعی طور پر تقریباً 11.86 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف 2026 کے دوران ہی اس میں 6.8 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی روپے کی یہ مسلسل کمزوری صرف امریکی ڈالر کی عالمی مضبوطی یا مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سے بھارت کی داخلی معاشی پالیسیوں اور معاشی نظم و نسق کی بنیادی خامیاں بھی نمایاں ہوتی ہیں۔
رواں اور گزشتہ سال بھارتی روپیہ ایشیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شمار کیا گیا۔ اسی عرصے میں بنگلہ دیشی ٹکہ کے مقابلے میں بھی بھارتی روپے کی قدر میں کمی ہوئی، جہاں ایک روپیہ 1.42 ٹکہ سے گر کر 1.28 ٹکہ تک آ گیا، جو تقریباً 10 فیصد کمی بنتی ہے۔
مودی حکومت اکثر روپے کی کمزوری کو بیرونی دباؤ اور مغربی ایشیا کی صورتحال سے جوڑتی رہی ہے، تاہم پاکستانی روپے کے مقابلے میں مسلسل تنزلی نے اس مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ مسئلہ صرف عالمی عوامل کا نتیجہ ہوتا تو خطے کی دیگر کرنسیاں بھی اسی شدت سے متاثر ہوتیں، مگر ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی روپے کی تنزلی کا آغاز اگرچہ فوجی کشیدگی اور سفارتی مداخلت کے دوران ہوا، لیکن اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی معیشت کو ساختی مسائل کا سامنا ہے۔
پاکستان کے ساتھ موازنہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان نے 2025 میں دوبارہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور سخت مالیاتی و معاشی اصلاحات نافذ کیں۔ اس کے باوجود پاکستانی روپے نے بھارتی کرنسی کے مقابلے میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔
رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ نریندر مودی نے 2012 اور 2013 میں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر اُس وقت کی یو پی اے حکومت کو روپے کی گرتی ہوئی قدر پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرنسی کی کمزوری دراصل حکومت کی ناکام پالیسیوں اور خراب طرزِ حکمرانی کا عکاس ہوتی ہے۔
مودی نے اس دور میں پاکستان کے حوالے سے سخت قوم پرستانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے خود کو ایک مضبوط رہنما کے طور پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یو پی اے حکومت پاکستان کو بھارتی مفادات کے خلاف اقدامات سے روکنے میں ناکام رہی، جبکہ ان کی قیادت میں بھارت اپنی برتری برقرار رکھے گا۔
تاہم موجودہ معاشی صورتحال اور اعداد و شمار ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اب خود مودی حکومت ایک ایسی کرنسی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے جو پاکستانی روپے کے مقابلے میں بھی کمزور پڑ رہی ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے بھی حالیہ تجزیے میں بھارتی روپے کی گراوٹ کو مودی حکومت کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا۔ اخبار کے مطابق بھارتی روپیہ کئی سہ ماہیوں سے بڑی کرنسیوں میں بدترین کارکردگی دکھا رہا ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک تعلیم، کاروبار اور سفر کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر بیرونِ ملک سفر پر ممکنہ ٹیکس یا سرچارج کی خبروں نے عوامی غصے کو ہوا دی، جس پر نریندر مودی نے خود وضاحت دیتے ہوئے ان اطلاعات کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا۔
بین الاقوامی مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ بھارتی روپے کی کمزوری صرف عالمی حالات سے جڑی ہوئی نہیں۔ جاپانی بینک MUFG نے مارچ میں اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کچھ بھی ہو، بھارتی روپیہ رواں سال کے اختتام تک مزید دباؤ کا شکار رہ سکتا ہے، البتہ عالمی واقعات اس کمی کی شدت پر اثرانداز ہوں گے۔














