سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے انگلینڈ میں قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر کپتان بابر اعظم کی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے مضبوط فیصلوں کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے حالیہ شکستوں اور ٹیم میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ کا ذمہ دار کرکٹ بورڈ کے پورے نظام کو قرار دے دیا۔
قومی ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اس وقت وائٹ واش کا خطرہ ہے۔ ایجبسٹن میں کھیلے جا رہے تیسرے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم کے 453 رنز کے جواب میں قومی ٹیم پہلی اننگز میں محض 133 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
دوسرے دن کے کھیل کے اختتام تک پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 52 رنز پر 2 وکٹیں گنوا دی ہیں اور اسے اب بھی 268 رنز کے خسارے کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے، نماز جنازہ آج اسلام آباد میں ادا کی جائے گی
اولی رابنسن نے دوسری اننگز کے پہلے ہی اوور میں 2 وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد مہمان ٹیم کے لیے سیریز میں وائٹ واش سے بچنا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔
ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ اور نیا تنازع
شعیب اختر کی یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دورے پر موجود سکواڈ سے 7 کھلاڑیوں کو فارغ کر دیا تھا۔
ان کی جگہ شامل کیے گئے 5 کھلاڑیوں نے اس سے قبل کبھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔
اس کے علاوہ پی سی بی نے ٹیسٹ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا کر ان کی جگہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو وائٹ بال کوچز مقرر کیا ہے۔
کپتان بابر اعظم نے بعد ازاں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان تبدیلیوں کا اعلان کرنے سے قبل ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
بابر کی شخصیت ان کے فیصلوں سے عیاں ہے
پی ٹی وی اسپورٹس پر گفتگو کرتے ہوئے ’راولپنڈی ایکسپریس‘ کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کی شخصیت ان کے کھیل اور فیصلوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بابر اعظم کچھ نہیں کر پا رہے تو یہ ان کی اپنی شخصیت کا خاصہ ہے۔ آپ اس ٹیم، کپتان یا باقی انتظامیہ سے زیادہ کی توقع نہیں رکھ سکتے اور ان سے کسی ٹھوس فیصلے کی امید رکھنا بے کار ہے۔
مزید پڑھیں:پاک انگلینڈ ٹیسٹ سیریز: شعیب اختر کی قومی کرکٹ ٹیم کو وارننگ
شعیب اختر نے ٹیم کی تبدیلیوں کو سنبھالنے کے حوالے سے اپنا موازنہ موجودہ کپتان سے کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس صورتحال میں ہوتے تو سب جانتے ہیں کہ کیا ہوتا۔
انہوں نے اپنی تنقید کا دائرہ کار کپتان سے بڑھا کر پورے کرکٹ نظام تک پھیلا دیا۔
سابق اسپیڈ اسٹار کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام تر ناکامیوں کی ذمہ داری نظام پر عائد ہوتی ہے، بورڈ نے جو سرمایہ کاری کی تھی، اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔
یاد رہے کہ انگلینڈ نے ہیڈنگلے میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ ایک اننگز اور 103 رنز، جبکہ لارڈز میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ 194 رنز سے جیت کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر رکھی ہے۔














