پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 5،6 سال سے پاکستان کرکٹ میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آرہی، خطرے کی گھنٹی پہلے ہی بج چکی تھی لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان بنگلا دیش کے خلاف ہوم اینڈ اوے سیریز ہار چکا ہے، لیکن اس شکست سے پہلے ہی مسائل واضح تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوچ تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ کھلاڑی تو وہی ہیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کو 10 سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن لیگ سے ایک بھی ایسا بیٹر سامنے نہیں آیا جس نے قومی ٹیم میں مستقل جگہ بنائی ہو، البتہ پی ایس ایل نے اچھے بولرز ضرور دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیسٹ ڈیبیو پر رضا اللہ کے چھکوں کی برسات، پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف بڑی مشکل سے نکال لیا
وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کو شاہین شاہ آفریدی جیسے تجربہ کار فاسٹ بولر کی ضرورت تھی، لیکن وہاں ایک ہی رفتار سے گیند کرنے والے فاسٹ بولرز بھیج دیے گئے۔ ان کے مطابق عاکف جاوید کو بھی دورہ انگلینڈ کے لیے ٹیم کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ کا جو نیا نظام بنایا ہے، اسے کم از کم 3،4 سال چلنے دینا چاہیے۔ ہر وقت نظام تبدیل کرنے کے بجائے صبر اور بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
وسیم اکرم نے کلب کرکٹ کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کو کراچی اور لاہور میں کلب کرکٹ پر 10،10 کروڑ روپے خرچ کرنے چاہئیں، کیونکہ اصل ٹیلنٹ کلب کرکٹ سے ہی سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم میں تسلسل ہونا چاہیے، لیکن ایک ہی کھلاڑی بار بار آتے اور جاتے رہتے ہیں۔
انہوں نے بیٹنگ کی تکنیک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی بیٹرز کا فرنٹ فٹ درست طریقے سے آگے نہیں نکلتا اور وہ رابنسن جیسے بولرز کو کریز میں کھڑے ہوکر کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وسیم اکرم نے کہا کہ مضبوط بیٹنگ کے لیے سب سے پہلے ٹیلنٹ پیدا کرنا ہوگا۔
سابق کپتان نے کہا کہ جس طرح ہر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے، وہ بھی ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی وائٹ بال ٹیم نسبتاً بہتر ہے لیکن ریڈ بال کرکٹ میں ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔














