افغانستان کے 5 صوبوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں تیز، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے 5 صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ 3 روز کے دوران کپیسہ، ہلمند، زابل، بدخشان اور ہرات میں طالبان اہلکاروں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر کو کپیسہ کے ضلع تگاب میں افغانستان کی سابق فوجی اڈے پر قائم طالبان کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں طالبان کے 3 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

11 ستمبر کو ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے طالبان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا، جس میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت بتائی گئی۔ اسی روز زابل میں طالبان کے 205 کور کی تیسری بریگیڈ سے وابستہ ایک رکن کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا، امریکی تھنک ٹینک

بدخشان کے ضلع یفتل پایان میں 10 ستمبر کو نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق تقریباً 40 منٹ تک جاری رہنے والی جھڑپ میں طالبان کے 3 اہلکار زخمی ہوئے۔

مزاحمتی سرگرمیوں کا دائرہ صرف مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں رہا۔ ہرات میں 11 ستمبر کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے شہر کے 28 مقامات پر مزاحمتی قیادت کے پیغامات اور مذہبی علما کے فتوے تقسیم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ان مقامات میں لالہ مارکیٹ، قلعہ اختیارالدین، مصطفیٰ چوک، باغ ملت اور چہار باغ شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp