پاکستان کرکٹ بورڈ کے کوچ رفعت اللہ مہمند کہتے ہیں کہ پہلی بار رضا اللہ کی بولنگ کی ویڈیو دیکھ کر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اس میں ٹیلنٹ ہے اور وہ پاکستان کا نام روشن کر سکتا ہے۔
رفعت اللہ مہمند، رضا اللہ کے کوچ رہ چکے ہیں اور انہوں نے پہلی بار رضا اللہ کو مردان سے نکال کر پشاور ڈویژن میں شامل کیا اور نیشنل لیول پر کھیلنے کا موقع بھی دیا۔
رفعت اللہ مہمند نے ی نیوز کو بتایا کہ رضا اللہ کی کامیابی پر وہ انتہائی خوش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ پشاور ڈویژن میں تھے تو انہیں پشاور ڈویژن کی ٹیم کے لیے ایک فاسٹ بولر کی ضرورت تھی، جس کے لیے وہ مختلف ڈویژن کے کوچز سے رابطے میں تھے۔ مختلف اضلاع سے بولرز کی ویڈیوز آئیں، لیکن ان میں مردان کے ایک لڑکے کی بولنگ الگ تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مردان کے لڑکے کی بولنگ کی ویڈیو دیکھ کر انہیں لگا کہ لڑکا اچھا بولر ہے اور اس میں دم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے دن انہوں نے اس لڑکے کو مردان سے پشاور بلا لیا اور پریکٹس میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ اس پریکٹس میں قومی کھلاڑی بھی تھے۔ رضا نے بولنگ کی اور اسے پشاور ڈویژن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ رضا اللہ نے پشاور ڈویژن میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سخت محنت کی۔ جب میں اسے پشاور ڈویژن میں شامل کر رہا تھا تو پی سی بی سے اجازت کی درخواست کی تو مجھے کہا گیا کہ دوسرے ڈویژن کا لڑکا ہے، کارکردگی نہ دکھا سکے تو شوکاز ہوگا۔
رفعت اللہ نے کہا کہ انہوں نے شوکاز کی پروا نہیں کی اور کوچ کی حیثیت سے رسک لینے کا فیصلہ کیا۔ مجھے یقین تھا کہ رضا اللہ پرفارم کرے گا اور اس نے کرکے دکھایا۔
رفعت اللہ مہمند نے بتایا کہ رضا اللہ نے بغیر کسی سفارش اور ریفرنس کے قومی ٹیم میں جگہ بنا لی اور سب کچھ اپنی محنت سے کرکے دکھایا۔ پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے اور رضا اللہ اس کی بہترین مثال ہے۔
مزید اس ویڈیو میں رفعت اللہ مہمند کی زبانی۔













