بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کا سلسلہ کئی برس گزرنے کے باوجود تھم نہ سکا۔ سال 2020 سے سال 2025 تک عورت فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے قتل اور غیرت کے نام پر قتل کے کم از کم 390 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ رواں سال بھی خواتین پر تشدد کے سنگین واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کا خونی سلسلہ، نصیرآباد سرفہرست
رواں سال کوئٹہ کے سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکے جانے، مستونگ میں خاتون پر تیزاب گردی، کچلاک میں 15 سالہ لڑکی کے شوہر کے ہاتھوں مبینہ قتل اور نوشکی میں کم عمر بچی سے مبینہ زیادتی کے بعد قتل سمیت خواتین اور بچیوں پر تشدد کے متعدد سنگین واقعات سامنے آچکے ہیں۔
دوسری جانب عورت فاؤنڈیشن کے سالانہ اعداد و شمار بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کی سنگین صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 میں خواتین پر تشدد کے مجموعی طور پر 123 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں غیرت کے نام پر قتل کے 58، قتل کے 32، گھریلو تشدد کے 9، اغوا کے 11 اور جنسی زیادتی کے 6 واقعات شامل تھے۔ ان 123 واقعات میں سے 39 صرف کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2024 میں 33 خواتین غیرت کے نام پر قتل جبکہ 24 خواتین قتل ہوئیں۔ سنہ 2023 میں غیرت کے نام پر قتل کے 24 اور قتل کے 23 واقعات، سنہ 2022 میں غیرت کے نام پر قتل کے 28 اور قتل کے 48 واقعات جبکہ سنہ 2021 میں غیرت کے نام پر قتل کے 24 اور قتل کے 12 واقعات رپورٹ ہوئے۔
سنہ 2020 میں غیرت کے نام پر قتل کے 51 جبکہ خواتین کے قتل کے 33 واقعات رپورٹ ہوئے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں غیرت کے نام پر دہرے قتل کے خلاف سندھ اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور، انصاف کا مطالبہ
یوں سال 2020 سے سال 2025 کے دوران خواتین کے قتل اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی مجموعی تعداد 390 بنتی ہے تاہم یہ تعداد خواتین پر تشدد کی دیگر اقسام کے واقعات کو شامل نہیں کرتی۔
کم عمری کی شادی بھی تشدد کے خطرات بڑھا سکتی ہے، اللہ الدین خلجی
عورت فاؤنڈیشن کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اللہ الدین خلجی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ڈیڑھ ماہ کے دوران بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے متعدد بڑے واقعات سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچلاک میں 15 سالہ لڑکی کا مبینہ قتل کم عمری کی شادی کے سنگین نتائج کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے۔
اللہ الدین خلجی کے مطابق کم عمر لڑکی خود ذہنی اور جسمانی طور پر ایک بچے کی عمر میں ہوتی ہے، ایسے میں اس سے ازدواجی زندگی اور گھر کی ذمہ داریاں نبھانے کی توقعات تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں، جو بعض اوقات تشدد اور قتل تک پہنچ جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال بلوچستان میں تیزاب گردی کے بھی 3 سے 4 واقعات سامنے آچکے ہیں۔ عورت فاؤنڈیشن نے تیزاب گردی کی روک تھام اور متاثرہ خواتین کے تحفظ کے لیے قانون کا مسودہ حکومت کو پیش کیا ہے تاہم یہ تاحال محکمہ داخلہ میں زیر غور ہے۔
اللہ الدین خلجی کا کہنا تھا کہ ماضی میں خواتین پر تشدد کے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے تھے تاہم اب آگاہی میں اضافے اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کے باعث ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں۔
ان کے مطابق بلوچستان میں خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود ہیں، تاہم اصل مسئلہ ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد، متاثرہ خواتین کو بروقت انصاف، طبی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور قانونی مدد کی فراہمی ہے۔
خواتین پر تشدد کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں، ماہر نفسیات
ماہر نفسیات سعدیہ اشفاق نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین پر تشدد کے پس پردہ صرف ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ مختلف سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کم عمری کی شادی، گھریلو اور معاشرتی دباؤ، پدرانہ سوچ، غصے پر قابو نہ پانا، خواتین کو ملکیت سمجھنے کا رویہ، معاشی انحصار اور تنازعات کو بات چیت کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کا رجحان اہم عوامل میں شامل ہوسکتے ہیں۔
سعدیہ اشفاق کے مطابق نفسیاتی اعتبار سے مسلسل غصہ، عدم برداشت، حد سے بڑھی ہوئی حسِ ملکیت اور تشدد کو مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھنے کا رویہ ایسے حالات کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے دوران بہادری دکھانے والے وارڈ بوائے سے وزیراعلیٰ بلوچستان کا ٹیلیفونک رابطہ، ایوارڈ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ خواتین کو بروقت تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے، تشدد کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملے اور خاندانوں میں تنازعات کے حل کے لیے نفسیاتی و سماجی معاونت دستیاب ہو تو خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔













