پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی تیاریوں میں مصروف ہیں، تاہم دوسری جانب پارٹی کے اندر مارچ کے حوالے سے شدید اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے اندرونی مشاورتی اجلاسوں میں رہنما اور منتخب اراکین پارٹی قیادت پر سوالات اٹھاتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ اس تمام صورتِ حال میں مرکزی قیادت کہاں کھڑی ہے؟
مشاورت کا فقدان اور فنڈز کی فراہمی پر تحفظات
پی ٹی آئی کے ایک منتخب رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعے کو پشاور میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس میں شرکت کرنے کی زحمت تک نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں:شفیع جان کی ویڈیو وائرل، شہدا کی توہین سے پی ٹی آئی یوٹیوبرز کے کمائے ڈالرز لانگ مارچ کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ اراکین سے مشاورت کرنے کے بجائے خود فیصلے کر کے انہیں احکامات جاری کرتے ہیں۔ بغیر مشاورت کے احتجاج اور مارچ کا سلسلہ علی امین گنڈاپور کے دور سے چلا آ رہا ہے، ’چہرے تبدیل ہوئے لیکن طریقہ کار اور بغیر مشاورت فیصلہ سازی کا وہی پرانا انداز اب بھی برقرار ہے۔‘
ایک صوبائی رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے منتخب اراکین اور ٹکٹ ہولڈرز کو زیادہ سے زیادہ بندے نکالنے کے ساتھ ساتھ فنڈز کی فراہمی کا بھی ٹاسک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’علی امین کے دور میں اراکین کو فنڈز دیے جاتے تھے، لیکن اب اراکین سے فنڈز مانگے جا رہے ہیں، جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔‘ منتخب اراکین سے رائے لیے بغیر دیگر تمام انتظامات کا بوجھ بھی انہی پر ڈال دیا گیا ہے۔
دیگر صوبوں کی عدم شرکت اور ورکرز کی گرفتاریوں پر تشویش
ایک رکن نے سوال اٹھایا کہ تمام تر احتجاجوں اور دھرنوں کی کامیابی کا انحصار صرف خیبر پختونخوا ہی پر کیوں رکھا جاتا ہے؟ لاہور سے لے کر اسلام آباد اور راولپنڈی تک کے تمام جلسوں کو صرف خیبر پختونخوا کے لوگوں نے کامیاب بنایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ’پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے لوگ کیوں نہیں نکل رہے؟ اگر کے پی کے ورکرز اسلام آباد جا کر مقابلہ کر سکتے ہیں تو پنجاب کے لوگ اپنے اضلاع سے کیوں نہیں نکلتے؟‘
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ورکرز پہلے ہی راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں اور اب مزید ورکرز کو جیلوں میں بھیجا جائے گا۔ ایک اور رکن کے مطابق وہ 27 ستمبر کو ضرور نکلیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ دیگر صوبوں سے بھی لوگ باہر آئیں۔
تیاریوں کا فقدان اور مارچ ملتوی ہونے کے خدشات
ایک سینیئر رکن کے مطابق 20 لاکھ افراد لانے کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں لیکن درحقیقت 5 ہزار لوگوں کے لیے بھی انتظامات نہیں ہیں۔ اراکین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ فنڈز بھی دیں اور ورکرز کے تمام انتظامات بھی خود کریں، جو کہ ناانصافی ہے۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ علی امین گنڈاپور اپنے دور میں ہر منتخب رکن کو 3 سے 5 لاکھ روپے دیتے تھے تاکہ ٹرانسپورٹ کے انتظامات بہتر ہو سکیں، لیکن موجودہ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آخری وقت میں لانگ مارچ ہی ملتوی کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ دیگر صوبوں کے دورے تو کر رہے ہیں لیکن وہاں سے لوگ نہیں نکل رہے، جبکہ اپنے صوبے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ صوبے میں مکمل خاموشی ہے اور رہنما گرفتاری دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ان پر بعد میں سوالات نہ اٹھیں۔
صوبائی حکومت کا موقف اور اختلافات کی تردید
دوسری جانب وزیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا اور سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی شفیع جان نے پارٹی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی سختی سے تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا مارچ ڈی چوک پہنچتے ہی بیرسٹر گوہر کا عمران خان کی رہائی سے متعلق بڑا اعلان
انہوں نے ’وی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود تیاریوں کی قیادت کر رہے ہیں اور چند دنوں میں پنجاب کا بھی دورہ کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 20 لاکھ سے زائد لوگ نکلیں گے اور ہر صورت اسلام آباد پہنچیں گے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ دیگر صوبوں کے لوگ بھی نکلیں گے اور اپنے اپنے صوبے کو مکمل بلاک کریں گے۔ پنجاب میں پارٹی کے اندر کوئی اختلافات نہیں ہیں اور وزیراعلیٰ کو دورے کی باقاعدہ دعوت دی گئی ہے۔













