اسرائیلی آبادکاروں نے اتوار کے روز مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کیں، جبکہ انہیں اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی حفاظت حاصل رہی۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق تقریباً 240 اسرائیلی آبادکار گروپوں کی شکل میں مغربی دیوار کے قریب واقع مغاربہ گیٹ کے راستے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے مسجد کے صحن میں اشتعال انگیز دورے کیے اور یہودی مذہبی رسومات ادا کیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی: 3ہزار سے زائد اسرائیلی احاطے میں داخل، اردن اور حماس کی شدید مذمت
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ اور قدیم شہر کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر رکھے تھے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ آبادکاروں کی یہ سرگرمیاں مقدس مقام کی موجودہ حیثیت اور وہاں عبادت کے انتظامات کے حوالے سے کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
وفا کے مطابق، نام نہاد ٹیمپل آرگنائزیشنز سے وابستہ گروہوں نے اپنے حامیوں سے مسجد اقصیٰ میں بڑے پیمانے پر داخل ہونے اور وہاں مذہبی رسومات ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔
مزید پڑھیں: مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو انتباہ
فلسطینی ذرائع نے اس کارروائی کو یہودی نئے سال کی تقریبات سے جوڑا ہے، جس کے دوران مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی آمد میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے یہودی تہوار کے موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں سڑکوں کی بندش اور آمدورفت پر پابندیاں عائد کیں، جس سے فلسطینی شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔
فلسطینی مؤقف کے مطابق ایک طرف فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی محدود کی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی آبادکاروں کو سیکیورٹی حصار میں مقدس مقام کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔
Dozens of Israeli settlers storm Al-Aqsa Mosque and perform public group prayers at the Bab al-Rahma area on the eve of the “Hebrew New Year,” amid tight restrictions on Muslim worshippers and preventing them from reaching the area during the settlers’ incursions. pic.twitter.com/wXTVzdQlBo
— PALESTINE ONLINE 🇵🇸 (@OnlinePalEng) September 10, 2026
مسجد اقصیٰ پر آبادکاروں کے دھاوے حالیہ برسوں میں مسلسل تنازع کا باعث بنتے رہے ہیں، رواں سال جولائی میں بھی ہزاروں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کے ارکان نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کی تھیں، جبکہ اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی اس موقع پر مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے تھے۔
فلسطینی حکام اور مذہبی ادارے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی آمد اور وہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی کو موجودہ انتظامی اور مذہبی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی دائیں بازو سے وابستہ تنظیمیں مسجد کے احاطے میں یہودی مذہبی رسومات اور موجودگی میں اضافے کے لیے مسلسل مہم چلاتی رہی ہیں، جس کے باعث مقدس مقام پر کشیدگی برقرار ہے۔













