لندن کی معروف باربیکن کنزرویٹری اتوار کے روز ایک منفرد ’پودا گود لینے کے مرکز‘ میں تبدیل ہوگئی، جہاں سینکڑوں منتخب پودوں کے شوقین افراد کو کنزرویٹری میں موجود نایاب نباتات کی قلمیں اپنے گھروں میں لے جانے کا موقع دیا گیا۔
شہر کی بلند عمارتوں اور کنکریٹ کے برُوٹلسٹ طرزِ تعمیر کے درمیان واقع باربیکن کنزرویٹری کو مرحوم ملکہ الزبتھ دوم نے ’جدید دنیا کے عجائبات میں سے ایک‘ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لندن میں غیر معمولی مخلوق کے قدموں کے نشانات کا انکشاف، سب شَشدر رہ گئے
کنزرویٹری میں پودوں کی تقریباً 800 اقسام موجود ہیں، جن میں دنیا کی بعض انتہائی نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار اقسام بھی شامل ہیں، تاہم اسے بڑے پیمانے پر تزئین و مرمت کے لیے جلد بند کیا جا رہا ہے۔
کنزرویٹری کی سال کے اختتام پر متوقع بندش سے قبل پودوں کے شوقین افراد کو اس شہری جنگل کی ایک چھوٹی سی یادگار اپنے گھروں تک لے جانے کا موقع فراہم کیا گیا۔
London 'plant parents' adopt a piece of historic Barbican urban jungle https://t.co/UhJoxMq5De https://t.co/UhJoxMq5De pic.twitter.com/IOejqirU2U
— Reuters UK (@ReutersUK) September 14, 2026
تقریب میں پودوں کے شوقین افراد نے قطاروں میں کھڑے ہوکر کنزرویٹری کے اندر موجود پودوں سے تیار کی گئی 500 قلموں میں سے ایک حاصل کی، تاہم پودا گود لینے کے لیے چند شرائط بھی رکھی گئی تھیں۔
درخواست دہندگان کو ایک فارم پُر کرنا تھا جس میں انہیں بتانا یا حتیٰ کہ نقشہ بنا کر دکھانا تھا کہ وہ اپنے نئے پودے کو گھر میں کہاں رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: یورپ میں موسمیاتی بحران شدت اختیار کر گیا، اسپین میں جنگلاتی آگ سے درجن بھر افراد ہلاک
انہیں پودے کا نام رکھنے اور کنزرویٹری میں اس کے ’والدین پودے‘ کو تلاش کرنے کی بھی ترغیب دی گئی۔
منتخب افراد کو پودے کے ساتھ ایک نگہداشت کارڈ بھی دیا گیا، جس میں پانی دینے، نمی اور روشنی کی ضروریات سے متعلق تفصیلات درج تھیں۔

تقریب میں سوئس چیز پلانٹ، اسپائیڈر پلانٹ اور ایرو ہیڈ وائن سمیت مختلف مقبول اقسام کی قلمیں شامل تھیں، جبکہ میکسیکو سے تعلق رکھنے والا خوبصورت پرپل ہارٹ پودا بھی توجہ کا مرکز رہا۔
تقریب کے انعقاد میں معاون ادارے ’وے ورڈ پلانٹس‘ کی شریک بانی ہیدر رنگ نے کہا کہ درخواست دہندگان نے پودوں کو گود لینے کے اس منفرد طریقہ کار کو بھرپور انداز میں سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پودے انتہائی دلکش ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے یہ خصوصی لمحات واقعی قابلِ قدر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تزئین و مرمت کا کام چند سال جاری رہے گا، تاہم مکمل ہونے کے بعد کنزرویٹری انتہائی خوبصورت نظر آئے گی۔













