’فارچونر میں بیٹھنے سے لوگوں کی اوقات نہیں بدلتی’، ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں شہری پر تشدد، وزیرِ دفاع بھی بول اٹھے

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں ایک وکیل کو موٹر سائیکل سوار شہری پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں وکیل موٹر سائیکل سوار پر ہاتھ اٹھاتے نظر آتا ہے، جس کے بعد واقعے پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

واقعے پر سب سے زیادہ تنقید موقع پر موجود ٹریفک وارڈن کے کردار پر کی جا رہی ہے۔ شہریوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ مبینہ تشدد کے دوران وارڈن نے بروقت مداخلت کیوں نہیں کی۔ ویڈیو میں موٹر سائیکل سوار کو مدد کے لیے درخواست کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

واقعے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے واقعے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ فورچونر پر بیٹھنے سے لوگوں کی اوقات نہیں بدلتی اور وہ اپنی اصلیت دکھانے سے باز نہیں آتے۔

ایک صارف نے کہا کہ پاس کھڑا باوردی پولیس والا تماشا دیکھتا رہا اس کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ سرعام 1 شہری پر تشدد کرنے والے کو قانون کے حوالے کرے اس کی جگہ اگر غریب گاڑی والے کو مارتا تو یہ پولیس والا اسکو فورا گرفتار کر لیتا۔

حمزہ شہزاد نے سوال کیا کہ ملک کا وزیرِ دفاع بھی وہی سوال اٹھا رہا ہے جو ایک عام شہری کے ذہن میں ہے، تو پھر عوام اور ملک کے وزیرِ دفاع میں فرق ہی کیا رہ گیا؟ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود اگر کسی مظلوم شہری کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا سکتی توبہتر ہے استعفیٰ دے دیں۔

ایک سوشل میڈیا صارف کا وزیر دفاع خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوءے کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے ہے گاڑی والے نے غلط حرکت کی لیکن آپ کو یہ بتانا نہیں بلکہ ایکشن لینا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp