وفاقی آئینی عدالت نے اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق جیل مینوئل کے امتیازی اطلاق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ قیدیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے جیل مینوئل بالکل واضح ہے۔
وفاقی آئینی عدالت میں یہ ریمارکس اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی جانب سے نجی اسپتالوں میں علاج کی اجازت کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ درخواست گزاروں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ملنے والے ریلیف کی طرز پر نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان جیسی سہولیات نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا فیڈرل آئینی عدالت سے رجوع
قیدیوں نے گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکام کو عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 31 اگست کو درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ قیدی کو اپنی پسند کے نجی اسپتال منتقل ہونے کا قانونی حق حاصل نہیں اور قیدیوں کے علاج کی بنیادی ذمہ داری ریاستی انتظامی ڈھانچے اور سرکاری اسپتالوں پر عائد ہوتی ہے۔
بعد ازاں قیدیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔
جیل مینوئل واضح ہے تو امتیاز نہیں ہونا چاہیے
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عامر فاروق شامل تھے۔
قیدی محمد الیاس خان کی جانب سے وکیل اختر چیمہ پیش ہوئے، جبکہ دیگر قیدیوں محمد اسماعیل حسین اور اویس الطاف کی نمائندگی وکلا عرفان ناصر چیمہ اور سید جعفر باقر نے کی۔
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ جب جیل مینوئل بالکل واضح ہے تو امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ : اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی نجی اسپتال میں علاج اور بیرون ملک رشتہ داروں سے رابطے کی درخواست مسترد
جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ علاج کے لیے صرف نجی اسپتال ہی کیوں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا پولی کلینک اسپتال کیوں نہیں، جبکہ پاکستان پریزن رولز 1978 کا قاعدہ 197 بالکل واضح ہے۔
قاعدہ 197 کے تحت قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کے طریقہ کار اور اخراجات کا تعین کیا گیا ہے، جنہیں ریاست نے برداشت کرنا ہوتا ہے۔
عمران خان کی منتقلی کے عدالتی حکم کا حوالہ
سماعت کے دوران وکیل اختر چیمہ نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس امین الدین خان نے سوال کیا کہ عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں وکیل فریق کیوں نہیں بنے، جس کی سماعت 16 ستمبر کو مقرر ہے۔
وکیل نے جواب دیا کہ موجودہ اپیل آئین کے آرٹیکل 175 ای کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 175 ای کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تنازعات میں خصوصی اصل دائرہ اختیار حاصل ہے، تاہم اس کے اختیارات براہ راست فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کے بجائے اعلانیہ فیصلے جاری کرنے تک محدود ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل سے علاج کے لیے اسپتال منتقل سزا یافتہ قیدی فرار
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کو دیے گئے ریلیف کی طرز پر درخواست گزاروں کو بھی ریلیف دینا ضروری ہوگیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ معاملے میں قانون کی تشریح درکار ہے اور مزید سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی۔
قیدی کی طبی حالت سے متعلق مؤقف
ایک قیدی کی جانب سے دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جیل رولز کے قاعدہ 197 کے تحت قیدی کو سول اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے اور حکومت کی جانب سے سول اسپتال سے مراد صرف سرکاری اسپتال لینا درست نہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ قواعد میں فوجی اور سرکاری اسپتال کے درمیان فرق موجود ہے، جبکہ 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں کسی بھی سنگین بیماری میں مبتلا قیدی کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے اور اخراجات اس کے اہلخانہ برداشت کرسکتے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کو شدید اندرونی خون بہنے کا مسئلہ ہے اور گزشتہ 2 ماہ کے دوران اسے 8 مرتبہ علاج کے لیے سرکاری اسپتال لے جایا جاچکا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اسپتالوں کے نظام کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہیں اعتماد نہیں کہ درخواست گزار کو سرکاری اسپتال میں مناسب طبی امداد مل سکے گی۔













