اڈیالہ جیل سے علاج کی غرض سے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا ایک سزایافتہ قیدی پولیس کو چکمہ دے کر اسپتال سے فرار ہو گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد پولیس انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے تھانہ وارث خان میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں غفلت برتنے پر ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
قیدی کا پس منظر اور جرم
پولیس حکام کے مطابق فرار ہونے والے ملزم کی شناخت ’جمیل‘ کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم کے خلاف گزشتہ سال کاؤنٹر نارکوٹکس فورس پنجاب میں منشیات اسمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے منشیات اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر ملزم جمیل کو 9 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی، جبکہ اس پر ایک لاکھ 80 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ اڈیالہ جیل میں اپنی سزا کاٹ رہا تھا۔
اسپتال سے فرار کا ڈرامائی انداز
مقدمے کے متن کے مطابق ملزم جمیل علالت کے باعث بینظیر بھٹو اسپتال کے وارڈ میں زیر علاج تھا۔ فرار کے وقت ملزم کا بیٹا عدنان اور ایک نامعلوم شخص اسپتال پہنچے۔ وہ دونوں ملزم کو وہیل چیئر پر بٹھا کر بڑی ہوشیاری سے وارڈ سے باہر لے کر گئے۔ بعد ازاں باہر پہلے سے تیار کھڑی ایک گاڑی میں ملزم کو بٹھا کر موقع سے فرار کرا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ، اڈیالہ جیل اور حساس علاقے ریڈ زون قرار
ایف آئی آر کےمتن کے مطابق ’ملزم جمیل کو اس کا بیٹا اور نامعلوم ساتھی وہیل چیئر پر سیکیورٹی اہلکاروں کی نظروں سے بچا کر وارڈ سے باہر لائے اور گاڑی میں بٹھا کر رفو چکر ہو گئے‘۔
سیکیورٹی اہلکار نامزد اور پولیس کی کارروائی
ایف آئی آر کے مطابق قیدی کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اے ایس آئی عمران احمد اور کانسٹیبل قمر علی کو فرائض میں شدید غفلت برتنے پر مقدمے میں نامزد کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ملزم اس کے بیٹے اور دیگر مددگاروں کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ واقعے میں غفلت یا اندرونی معاونت کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملوث افراد کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔














