کیمبرج امتحانات کے پرچے لیک ہونے کی تحقیقات، پاکستان سے تعلق ثابت نہ ہو سکا

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ او اے لیول کے امتحانی پرچےغالباً کسی دوسرے ملک سے لیک ہوئے، پاکستان سے اس کا تعلق ثابت کرنے کے لیے کوئی شواہد نہیں ملے۔

 قائم مقام چیئرمین انجم عقیل خان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اجلاس میں دیگر امور کے علاوہ او اے لیول امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیمبرج امتحانات: ایک اور پرچہ وقت سے پہلے لیک، وفاقی وزیر تعلیم نے نوٹس لے لیا

اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے معاملے کی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ امتحانی پرچوں کا لیک پاکستان سے ہوا۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے کو بیرون ملک موجود سرورز تک براہ راست رسائی حاصل نہیں، جس کے باعث بیرون ملک سرورز کے ذریعے ہونے والی مبینہ لیکیج کے ماخذ، مقام اور طریقہ کار کا آزادانہ طور پر سراغ لگانے کی صلاحیت محدود ہے۔

رواں سال مئی میں حکومت نے کیمبرج امتحانات کے پرچے مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے این سی سی آئی اے کو کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (سی اے آئی ای) کے تعاون سے تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ اقدام والدین اور طلبہ کی جانب سے بعض امتحانی پرچوں کے مبینہ طور پر لیک ہونے پر تشویش کے اظہار کے بعد کیا گیا تھا۔

تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے استعمال پر تشویش

دوسری جانب قائمہ کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور طلبہ کو منشیات کی فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ منشیات کے استعمال اور طلبہ کو ان کی فراہمی سے متعلق بڑھتی ہوئی اطلاعات کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو فوری، مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کرنا ہوں گے۔

کمیٹی نے منشیات کی سپلائی کے ذرائع کی نشاندہی اور تعلیمی اداروں کے اندر اور اطراف میں جرائم پیشہ عناصر کے کردار کی روک تھام کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس، پولیس، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی نظامتِ تعلیم کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کا نظام قائم کرنے پر زور دیا۔

کمیٹی نے کہا کہ طلبہ کے لیے محفوظ، پرامن اور منشیات سے پاک تعلیمی ماحول یقینی بنانے کے لیے تعلیمی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ ریگولیٹری حکام کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا، جس کے لیے ذمہ داریوں کا واضح تعین، مؤثر نگرانی اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔

کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور فراہمی کے رپورٹ شدہ واقعات سے متعلق مصدقہ اعداد و شمار طلب کر لیے۔

کمیٹی نے کیسز کی تعداد اور نوعیت، متعلقہ اداروں کی جانب سے کی گئی کارروائی، بین الادارہ جاتی رابطہ کاری کے طریقہ کار اور ملوث افراد کو دی جانے والی سزاؤں اور جرمانوں کی تفصیلات بھی طلب کیں۔

مزید پڑھیں: اے لیول امتحانات کی ساکھ کو خطرہ، بزنس اسٹڈیز کا پرچہ لیک ہونے کی اطلاعات

کمیٹی نے قرار دیا کہ محض کمیٹیاں قائم کرنے اور پالیسیاں بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مؤثر عمل درآمد، باقاعدہ نگرانی اور طلبہ کو منشیات فراہم کرنے والوں کے خلاف عملی کارروائی بھی ضروری ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ میں منشیات اور تمباکو کے استعمال سے متعلق مسائل کی نگرانی اور تدارک کے لیے اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔

تاہم کمیٹی ارکان نے زور دیا کہ ان ادارہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور قانون نافذ کرنے والے اور ریگولیٹری اداروں کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ منشیات سے متعلق واقعات کی بروقت رپورٹنگ، تحقیقات اور کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

نیوٹیک کے پروگرامز کو عالمی مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنے پر زور

کمیٹی نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے پروگرامز کو مزید نتیجہ خیز بنانے اور انہیں عالمی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ عالمی روزگار کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں ہنرمند افرادی قوت کی طلب میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، اس لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں ہنرمند افرادی قوت کی ابھرتی ہوئی ضروریات کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہے۔

ڈسلیکسیا کے شکار طلبہ کے لیے امتحانی سہولیات

وفاقی تعلیمی بورڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ڈسلیکسیا کا شکار طلبہ کو امتحانات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان اقدامات میں ضرورت مند طلبہ کو اضافی وقت دینا اور سوالیہ پرچہ پڑھنے میں معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔

کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو باقاعدہ نفسیاتی معاونت فراہم کرنے اور تربیت یافتہ ریمیڈیئل ٹیچرز کی دستیابی یقینی بنانے پر بھی زور دیا تاکہ سیکھنے میں مشکلات کی بروقت نشاندہی اور متاثرہ طلبہ کو کلاس روم میں مناسب معاونت فراہم کی جا سکے۔

مزید پڑھیں: اے لیول کا پرچہ لیک ہوا، کیمبرج کی تصدیق

ایک رکن نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے ڈسلیکسیا سے متعلق قانون سازی بھی کی جا چکی ہے، ڈسلیکسیا کے شکار بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے ملک بھر میں جامع اور یکساں حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وہ تمام تعلیمی بورڈز کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائے گا تاکہ ملک بھر میں یکساں اقدامات کو فروغ دیا جا سکے اور ڈسلیکسیا کے شکار طلبہ کے لیے مناسب سہولیات اور معاونت کے نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp