عالمی توانائی بحران: اثرات سب پر، انداز مختلف

منگل 15 ستمبر 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر مکمل حقائق جانے بغیر حکومت پر تنقید کا سلسلہ سوشل میڈیا پر شروع ہوا۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید عوام کا حق ہے اور پٹرولیم لیوی سمیت قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، لیکن تنقید کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جنگی حالات کے باعث بین الاقوامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اب تو حکومت نے کم استطاعت رکھنے والے عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔

عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے توانائی بحران سے گزر رہی ہے جس کے اثرات کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں۔ امریکا، ایران جنگ، آبنائے ہرمز اور اب باب المندب کے راستے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ، خام تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں مال برداری، انشورنس اور رسد کی لاگت بڑھنے سے دنیا کے تقریباً تمام بڑے درآمد کنندگان متاثر ہوئے ہیں۔ اس بحران کی اہم حقیقت یہ ہے کہ اثرات سب پر ہیں، لیکن ان کی قیمت چکانے کے انداز مختلف ہیں۔

سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (CREA) کے مطابق مذکورہ جنگ کے پہلے چھ ماہ، یعنی مارچ سے اگست 2026 کے دوران، فوسل فیول درآمد کرنے والے دنیا کے ممالک نے پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 330 ارب ڈالر اضافی ادا کیے۔ اس عرصے میں ایشیائی ایل این جی کی قیمتیں اوسطاً 75 فیصد، یورپی ایل این جی 60 فیصد، ڈیزل 59 فیصد اور خام تیل 35 فیصد زیادہ رہیں۔

یورپی یونین نے اس بحران کا سب سے زیادہ اضافی بوجھ، 78 ارب ڈالر، برداشت کیا، جبکہ چین نے 35 ارب ڈالر اور بھارت نے 22 ارب ڈالر کی اضافی لاگت برداشت کی۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کے بحران نے کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ دنیا کی بڑی معیشتوں سمیت تقریباً سب کو متاثر کیا۔

توانائی کے بحران سے برطانیہ اور یورپ کے ٹرانسپورٹ شعبے کے ساتھ صنعتی پیداوار، جس میں اسٹیل، کیمیکل اور ایلومینیم شامل ہیں، کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث یورپی یونین کو عالمی منڈی میں مسابقت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قطر عالمی ایل این جی مارکیٹ کا ایک اہم سپلائر ہے اور اس کی مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ مارچ میں قطر کے راس لفان گیس کمپلیکس پر حملوں سے قطر کا ایل این جی پلانٹ متاثر ہوا۔ قطر ان تنصیبات کی بحالی میں تین سے پانچ سال تک کا وقت لگنے کا عندیہ دے چکا ہے۔

چین بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ دنیا کی بڑی صنعتی معیشت ہونے کے باوجود چین فوسل فیول کی درآمد پر 35 ارب ڈالر کی اضافی لاگت ادا کر چکا ہے۔ تاہم چین کی مستحکم صنعتی استعداد، توانائی کے متنوع ذرائع اور مالیاتی گنجائش کی وجہ سے وہ اس مالیاتی دباؤ کو برداشت کرنے میں کامیاب رہا۔

بھارت نے بھی اس مد میں 22 ارب ڈالر کی اضافی لاگت برداشت کی۔ بھارت نے اس بوجھ کا سامنا مختلف حکمت عملی کے ذریعے کیا اور تیل کمپنیوں کے مارجن اور حکومتی مالی گنجائش کو استعمال کیا۔ اگرچہ براہ راست عوام پر بوجھ کم پڑا، لیکن اس کا مداوا بالآخر عوام کے ٹیکس کی رقم سے ہی کیا گیا۔

پاکستان سمیت دنیا نے موجودہ بحران کی قیمت ادا کی ہے۔ یورپ نے روسی گیس پر انحصار کم کرنے کی قیمت ادا کی، چین اور بھارت نے بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت برداشت کی، قطر نے اپنی توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی قیمت چکائی اور پاکستان نے بھی بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور زرمبادلہ کے دباؤ کے ساتھ اس عالمی بحران کا سامنا کیا۔

پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر اپنی ریفائنریوں کو جدید بنانے، اسٹریٹجک ذخائر اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے، توانائی کے ذرائع اور رسد کے راستوں کو متنوع بنانے اور مقامی و متبادل توانائی میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بحران کی صورت میں ملک کو کسی بڑے دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp