پشاور کے بازاروں میں آج ایک ایسا سرپرائز وزٹ ہوا جس نے سب کو حیران کردیا۔ نہ سرکاری پروٹوکول، نہ گاڑیوں کا قافلہ اور نہ ہی افسران کی روایتی ٹیم۔ کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود عام شہری کا روپ دھار کر خود شہر کی سڑکوں اور بازاروں میں پہنچ گئے۔
ٹریفک مجسٹریٹ بشارت احمد کے ہمراہ کمشنر نے شعبہ بازار، خیبر بازار، قصہ خوانی، مینا بازار، کوچی بازار، چوک ناصر خان، کوہاٹی چوک، چرچ روڈ، ہشتنگری، کریم پورہ اور چوک شادی پیر سمیت مختلف علاقوں کا پیدل دورہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 3 ماہ میں تجاوزات کا خاتمہ کرکے شہر کا نقشہ بدل دیں گے، ڈپٹی کمشنر پشاور کا عزم
کہیں سڑکوں پر تجاوزات کا جائزہ لیا تو کہیں صفائی کی صورتحال دیکھی، بازاروں میں پیدل چلنے والوں کو درپیش مشکلات کا مشاہدہ کیا اور شہریوں و دکانداروں سے براہ راست گفتگو کرکے انتظامیہ کی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
بات صرف تجاوزات اور صفائی تک محدود نہیں رہی، کمشنر نے عام شہری بن کر اشیائے خوردونوش کی خریداری بھی کی اور دکانوں پر اشیا کے معیار اور سرکاری نرخنامے کے مطابق قیمتوں کا جائزہ لیا۔
کمشنر خالد محمود کا کہنا تھا کہ ‘عام شہری کے روپ میں دورے کا مقصد سرکاری دعوؤں کے بجائے زمینی حقائق دیکھنا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں کی صورتحال ان کے نوٹس میں آچکی ہے اور سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جائے گا۔’
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت
انہوں نے واضح کیا کہ ‘تجاوزات، ناقص صفائی اور گرانفروشی کے معاملے میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔’
اب سوال یہ ہے کہ کمشنر کے اس اچانک دورے کے بعد بازاروں کی حالت کتنی بدلتی ہے؟ کیا تجاوزات دوبارہ قائم نہیں ہوں گی؟ کیا شہریوں کو سرکاری نرخوں پر معیاری اشیائے خوردونوش مل سکیں گی؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی عملی کارکردگی دے گی۔











