اے آئی کی دوڑ انسانیت کو تباہی کے قریب لے جا رہی ہے، اینتھروپک کے محقق مستعفی

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر تشویش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسن نے اسی تشویش کے باعث کمپنی سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اے آئی لیبارٹریاں ایسے نظام تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں جو آنے والے برسوں میں انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کوکسن کا استعفیٰ اینتھروپک کے کسی ملازم کی جانب سے اے آئی سیفٹی سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کمپنی چھوڑنے کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔

کوکسن نے گزشتہ 3 برس کے دوران اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں اے آئی ماڈلز کی تربیت اور پری ٹریننگ سے متعلق تحقیق پر کام کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کوکسن نے کہا کہ دونوں کمپنیاں ذمہ دارانہ انداز میں کام نہیں کر رہیں بلکہ خود کو بہتر بنانے والی ’سپر انٹیلیجنس‘ تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

کوکسن کے بقول اس دوڑ میں انسانی زندگی کو غیر معمولی خطرات سے دوچار کیا جا رہا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کی صلاحیتوں کو کم سمجھنا خطرناک ہوگا۔

ان کے مطابق مستقبل قریب میں ایسے نظام سامنے آسکتے ہیں جو انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین اور طاقتور ہوں گے، سائبر نظاموں میں مداخلت، مختلف شعبوں میں اچانک انقلابی تبدیلی اور حقیقی دنیا میں طاقت و وسائل حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اے آئی تیار کرنے والے متعدد محققین اور اعلیٰ عہدیدار نجی طور پر اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، برنی سینڈرز کی وارننگ

ان کا کہنا تھا کہ اینتھروپک میں اے آئی کے خطرات کو سمجھا جاتا ہے، لیکن کمپنی اس خدشے کے باوجود دوڑ سے باہر نہیں نکل رہی کیونکہ اسے اندیشہ ہے کہ دوسری کمپنیاں کم ذمہ داری کے ساتھ یہ کام آگے بڑھا سکتی ہیں۔

کوکسن نے اے آئی محققین پر زور دیا کہ وہ ترقی کی رفتار پر نظرثانی کریں اور ایسے ماڈلز کی تربیت شروع کرنے سے پہلے ان کے ممکنہ رویوں اور خطرات کو سمجھنے کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

رپورٹ کے مطابق کوکسن ان ایک ہزار سے زائد اے آئی محققین میں بھی شامل ہیں جنہوں نے عالمی حکومتوں کے درمیان تعاون اور ضرورت پڑنے پر اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے لیے مؤثر نظام تشکیل دینے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیا سے آمدن پر ٹیکس کا نیا طریقہ، یوٹیوب کے ایک ہزار ویوز کا ٹیکس 195 روپے مقرر

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا