مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی دہشتگردوں اور ناتجربہ کار انتہاپسندوں کے لیے حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار معلومات کا حصول آسان بنا سکتی ہے، جس کے باعث طاقتور اے آئی نظاموں کی تیز رفتار ترقی نے سیکیورٹی ماہرین کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ زیادہ صلاحیت رکھنے والے اے آئی ماڈلز، خصوصاً ایسے اوپن ویٹ نظام جنہیں ڈاؤن لوڈ کرکے نجی طور پر چلایا جا سکتا ہے، ان افراد کو خطرناک معاونت فراہم کر سکتے ہیں جن کے پاس ماضی میں پیچیدہ حیاتیاتی حملوں کی تیاری کے لیے درکار سائنسی مہارت موجود نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں خود انحصاری، حکومت نے واضح روڈ میپ پیش کردیا
روایتی آن لائن سروسز کے برعکس بعض اے آئی ماڈلز کو مقامی طور پر اس طرح چلایا جا سکتا ہے کہ صارف کی جانب سے دی جانے والی ہدایات یا سوالات کسی کمپنی کے سرورز کو بھیجنے کی ضرورت نہ پڑے۔
اس صورتحال میں حکام کے لیے ان کے استعمال کی نگرانی مزید مشکل ہو سکتی ہے، جبکہ صارفین تجارتی اے آئی نظاموں میں موجود حفاظتی پابندیوں کو بھی نظرانداز کر سکتے ہیں۔
Max Tegmark, a physicist and professor at MIT, warns that developing unregulated, superintelligent Artificial Intelligence poses an existential threat to humanity
Lack of Safety Rules: Tegmark compares the current United States AI industry to a "sandwich shop". He notes that… pic.twitter.com/6BhzULXEmH— Meidas_Charise Lee (@charise_lee) August 25, 2026
محققین کو بالخصوص ایسے ماڈلز پر تشویش ہے جن کے حفاظتی نظام کو ختم یا کمزور کیا جا سکتا ہے۔
’ٹیک اگینسٹ ٹیررازم‘ کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق آزمائشی مرحلے میں تقریباً ایک تہائی جوابات نے ایسی بامعنی معاونت فراہم کی جو کسی بدنیت فرد کی جانب سے دہشتگرد سرگرمی کی تیاری کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی ہے، باوجود اس کے کہ اے آئی نظاموں میں حفاظتی رکاوٹیں موجود تھیں۔
مزید پڑھیں: روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں خود انحصاری، حکومت نے واضح روڈ میپ پیش کردیا
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حیاتیاتی تحقیق کے شعبے میں اے آئی کی صلاحیتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
سائنس دانوں اور پالیسی سازوں نے خبردار کیا ہے کہ جدید اے آئی حیاتیاتی تحقیق، ادویات کی دریافت اور حیاتیاتی نظاموں کے ڈیزائن و تجزیے سمیت متعدد کاموں کو تیز کر سکتی ہے۔
یہی صلاحیتیں جہاں نئی اور مؤثر طبی ادویات اور علاج کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، وہیں انہیں نقصان دہ مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: چین میں مشینوں کی حکمرانی؟ روبوٹکس انقلاب نے نئی بحث چھیڑ دی
رینڈ کی جانب سے رواں ماہ جاری کی گئی ایک رپورٹ میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد سطحوں پر مشتمل حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی کے غلط استعمال کے ذریعے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کو روکنے کے لیے کوئی ایک حفاظتی اقدام کافی نہیں ہوگا۔













