برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے امریکی ٹور سے باقی تمام سپورٹ فنکار بھی الگ ہوگئے ہیں، جس کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے جو ریپر میکلمور کو فلسطین کے حق میں اسٹیج پر اظہارِ خیال کے بعد ٹور سے ہٹائے جانے پر شروع ہوا تھا۔
میکلمور کے بعد فنکاروں میں فنئیس، آئرش گلوکار و نغمہ نگار ایرون رو، ڈنمارک کے بینڈ لوکاس گراہم اور آئرش فوک بینڈ بیوگا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ریپر میکلمور نے تنقید کے باوجود ’فری فلسطین‘ کا نعرہ پھر بلند کردیا
گلوکارہ بلی آئیلش کے بھائی فنئیس نے اپنے بیان میں کہا کہ فنکاروں کو مظلوم افراد کے حق میں آواز اٹھانے پر خاموش نہیں کیا جانا چاہیے۔
Ed Sheeran’s tour of North and South America was plunged into chaos when four of his supporting acts abruptly quit in solidarity with the rapper Macklemore, who was dropped for making pro-Palestinian comments onstage.#EdSheeran #Macklemore #Finneas #AaronRowe #LukasGraham pic.twitter.com/ueU2otqIkY
— The Associated Press (@AP) September 16, 2026
لوکاس گراہم نے کہا کہ فنکاروں کو جنگ، شہریوں کی ہلاکت اور ان بچوں کے بارے میں بات کرنے کے قابل ہونا چاہیے جو دنیا میں کہیں بھی پُرامن زندگی گزارنے کے حقدار ہیں۔
ایرون رو نے کہا کہ ٹور سے الگ ہونے کا فیصلہ انہوں نے آسانی سے نہیں کیا، جبکہ بیوگا کا کہنا تھا کہ ایسے مقامات پر پرفارم کرنا ان کے لیے قابل قبول نہیں جہاں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو خاموش کیا جائے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب ایڈ شیرن نے کہا کہ وہ غزہ کے معاملے پر عوامی بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔
مزید پڑھیں: فلسطین کے حق میں نعرے لگانے پر برطانوی میوزک بینڈ کے اراکین امریکا جانے سے محروم
ان کا کہنا تھا کہ میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ پروموٹر کا تھا، ان کا نہیں۔
شیرن نے کہا کہ وہ مداحوں، ٹورنگ عملے اور دیگر سپورٹ فنکاروں کو متاثر نہیں کرنا چاہتے تھے۔
تنازع 4 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب میکلمور نے نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں پرفارم کرتے ہوئے ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگایا اور اپنا گانا ’ہندز ہال‘ پیش کیا، جس کے دوران غزہ میں تباہی کی تصاویر بھی اسکرین پر دکھائی گئیں۔
https://Twitter.com/search?q=All%20support%20acts%20on%20Ed%20Sheeran%27s%20US%20tour%20quit%20after%20Macklemore%20dropped&src=typed_query
ان کے بیان پر بعض یہودی اور اسرائیل نواز گروہوں نے تنقید کی اور انہیں ٹور سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں میکلمور کو ٹور سے الگ کردیا گیا، ٹور پروموٹر میسینا ٹورنگ گروپ کے مطابق بعض مقامات نے واضح کیا تھا کہ وہ میکلمور کو پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جس سے پورا ٹور متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔
مزید پڑھیں: 58 فیصد امریکی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حامی، سروے رپورٹ
ایڈ شیرن نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع کو ’انسانی المیہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامعین میں بچے اور مختلف پس منظر رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، اسی لیے وہ اپنے پیشہ ورانہ پلیٹ فارم کو سیاسی فورم بنانے سے گریز کرتے ہیں۔
دوسری جانب میکلمور نے شیرن پر فلسطین کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں غیر جانبدار رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
برطانوی وزیر ثقافت لیزا نینڈی نے بھی معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کو سیاسی معاملات پر اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے شیرن کی مشکل صورتِ حال پر ہمدردی کا اظہار کیا۔














