سوڈان کے جنوبی علاقے میں سونے کی ایک کان کے بیٹھ جانے سے کم از کم 60 چھوٹے پیمانے پر کان کنی کرنے والے مزدور ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
مقامی کان کنوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مغربی کردوفان کے شہر النہود کے قریب واقع الزرعہ سونے کی کان کے شافٹ منگل کو اچانک بیٹھنا شروع ہوئے۔ بدھ کی صبح تک ملبے سے کم از کم 60 لاشیں نکال لی گئی تھیں، تاہم امدادی کارکنوں کو خدشہ ہے کہ مزید افراد اب بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے جنوبی افریقہ: سونے کی متروک کان میں پھنسے سینکڑوں کان کنوں کی ہلاکت کا خدشہ
حادثے میں بچ جانے والے کان کن خیر السید جبارہ نے بتایا کہ کان کنوں نے رات بھر اپنے محدود اور روایتی آلات کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔ ان کے مطابق ملبے تلے دبے افراد اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم چٹانوں اور مٹی کو ہٹانے کے لیے بھاری مشینری درکار ہے۔
ایک اور کان کن الامین سلیمان نے بتایا کہ کان کے تمام شافٹ ایک دوسرے کے قریب ہیں، اس لیے ایک شافٹ کے بیٹھنے سے ساتھ موجود دیگر شافٹ بھی متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق 60 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ کچھ افراد بدستور زیر زمین پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے زندہ بچنے کی امید کم ہے۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ کے باعث معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ جنگ نے لاکھوں افراد کو روزگار سے محروم کیا، جس کے نتیجے میں خطرناک حالات کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ سونے کی کان کنی کی طرف متوجہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے کیا امریکی سرمایہ کاری ریکوڈک میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے؟
مغربی کردوفان، جہاں حادثہ پیش آیا، ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول میں ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی بھی مشکل ہے۔
سوڈان افریقہ کے سونے کے بڑے پیداکنندگان میں شامل ہے۔ گزشتہ سال ملک میں سونے کی پیداوار پچھلے 5 سال کی بلند ترین سطح، 70 ٹن تک پہنچ گئی تھی۔














