پاکستان کو پائیدار پانڈا بانڈ پر بین الاقوامی ایوارڈ مل گیا

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کو 1.75 ارب یوان یعنی تقریباً 258 ملین ڈالر مالیت کے پائیدار پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈز میں ’پائنیر سسٹین ایبل سوورن پانڈا بانڈ ایشوئر ایوارڈ‘ سے نواز دیا گیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مستقبل میں چینی کیپٹل مارکیٹ سے مزید قرض حاصل کرنے کے لیے دوبارہ رجوع کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بدھ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ 3 سالہ مدت اور 2.5 فیصد شرح سود پر جاری کیے گئے بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے 5 گنا سے زائد طلب موصول ہوئی، جس سے پاکستان کے لیے عالمی سرمائے کے ایک نئے ذریعے تک رسائی ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ کے کامیاب اجرا سے پاکستان کو چین کی کیپٹل مارکیٹ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ایک نئے حلقے تک رسائی حاصل ہوئی، جبکہ بیرونی مالی وسائل کو متنوع بنانے اور پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی روابط مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد ملی۔

خرم شہزاد کے مطابق اس اہم لین دین میں حکومت پاکستان، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، چینی حکام، مالیاتی مشیر، انڈر رائٹرز اور دیگر مارکیٹ پارٹنرز نے تعاون کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پانڈا بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم ماحول دوست اور سماجی اہمیت کے حامل منصوبوں، بالخصوص پانی، توانائی اور صحت کے شعبوں میں استعمال کی جائے گی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے ویڈیو پیغام میں کلائمیٹ بانڈز انیشی ایٹو، حکومت چین، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، سرمایہ کاروں، مشیروں، انڈر رائٹرز اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: وزارت خزانہ نے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ سے متعلق رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ دنیا کی دوسری بڑی اور دوسری گہری کیپٹل مارکیٹ سے استفادہ کیا ہے، جس سے ملک کے لیے سرمائے کے ایک وسیع اور نئے ذریعے کے دروازے کھلے ہیں اور پاکستان چین کے دیرینہ تزویراتی تعلقات کے مالیاتی پہلو کو مزید تقویت ملی ہے۔

محمد اورنگزیب نے پانڈا بانڈ کو ملنے والے ردعمل کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی بنیادی اشاریوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین کی مارکیٹ میں ایک مرتبہ قرض لینے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں مزید بانڈز جاری کرنے کے لیے دوبارہ چینی کیپٹل مارکیٹ سے رجوع کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp