پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جانب سے پارٹی کے منتخب رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کو میڈیا سے گفتگو کے دوران مائیک سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیے جانے کی ویڈیو نے پی ٹی آئی میں غیر منتخب شخصیات کے کردار اور علیمہ خان کے سیاسی اثرورسوخ سے متعلق بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علی محمد خان میڈیا سے گفتگو کے لیے مائیک کے قریب موجود ہیں، اسی دوران علیمہ خان انہیں اشارے سے پیچھے ہٹنے کو کہتی ہیں، جس کے بعد علی محمد خان مائیک سے پیچھے ہوجاتے ہیں۔
جن کو یہ غلط فہمی تھی کہ پی ٹی آئی میں موروثیت نہیں
وہ دیکھ لیں کہ غیر منتخب لیکن عمران خان کی بہن علیمہ خان کس طرح منتخب ایم این اے علی محمد خان کو مائیک سے سے پیچھے ہٹنے کا کہہ رہی ہیں! pic.twitter.com/VbFm39adFb— Hammad Hassan (@HammadHassan30) September 16, 2026
اس منظر کو بعض حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے اندر خاندانی اثرورسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ پارٹی کے باضابطہ اور منتخب ڈھانچے کے علاوہ عمران خان کے خاندان سے وابستہ افراد کا عملی کردار کس نوعیت کا ہے۔
علیمہ خان پی ٹی آئی کی کوئی منتخب رکن یا پارٹی کی باضابطہ منتخب قیادت کا حصہ نہیں ہیں، تاہم وہ عمران خان کی بہن ہونے کے باعث مختلف مواقع پر پارٹی کے سیاسی معاملات اور بانی پی ٹی آئی کے پیغامات کے حوالے سے منظرعام پر آتی رہی ہیں۔
وہ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو، عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملات سمیت مختلف سیاسی امور پر مسلسل اپنا مؤقف بیان کرتی رہی ہیں۔
علیمہ خان کے سیاسی کردار پر اس سے قبل بھی پی ٹی آئی کے اندر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ دسمبر 2024 میں علی محمد خان کی ایک آڈیو سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے سوال کیا تھا کہ احتجاج کی کال پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے بجائے علیمہ خان نے کیوں دی۔ علی محمد خان نے بعد میں آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی۔
اس وقت علی محمد خان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ عمران خان پارٹی میں موروثی سیاست کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور پارٹی کے سیاسی فیصلے باضابطہ قیادت کی جانب سے ہونے چاہییں۔ یہی معاملہ بعد میں پی ٹی آئی کے اندر علیمہ خان کے کردار پر ہونے والی بحث کا ایک اہم حوالہ بن گیا۔
دوسری جانب علیمہ خان مختلف مواقع پر اپنے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی رہی ہیں کہ وہ اور عمران خان کی دوسری بہنیں اپنے بھائی کے پیغامات دوسروں تک پہنچاتی ہیں۔ رواں ماہ بھی علیمہ خان عمران خان کی صحت، اڈیالہ جیل میں ان کی صورتحال اور انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے مطالبے کے حوالے سے مسلسل بیانات دیتی رہی ہیں۔
علیمہ خان کے سیاسی کردار سے متعلق بعض ایسے دعوے بھی سامنے آچکے ہیں جن میں انہیں پی ٹی آئی کی قیادت سنبھالنے کی خواہش سے منسوب کیا گیا۔
علیمہ خان کے سیاسی کردار پر بحث کے ساتھ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت کے ساتھ ان کے اختلافات بھی خاصی عرصے سے سامنے آتے رہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے مختلف مواقع پر علیمہ خان کے پارٹی معاملات میں کردار پر تنقید کی اور ان پر پارٹی کے اندر اختلافات پیدا کرنے سمیت مختلف الزامات عائد کیے۔
یوں علی محمد خان کو میڈیا سے گفتگو کے دوران مائیک سے پیچھے ہٹنے کا حالیہ منظر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علیمہ خان کا پی ٹی آئی کے معاملات میں عملی کردار پہلے ہی سیاسی بحث کا موضوع ہے۔
واقعے کی ویڈیو نے پارٹی کے منتخب نمائندوں اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خاندان سے وابستہ غیر منتخب شخصیات کے درمیان عملی سیاسی کردار کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔














