اسلام آباد ہائی وے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی گاڑی کو ایک مبینہ حادثہ پیش آیا، جس کے بعد ان کے رویے اور جملوں کی ویڈیو و اطلاعات پر سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل اور تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی وے پر سفر کے دوران ایک گاڑی (نمبر GAT-764) کی ٹکر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قافلے/گاڑی سے ہوئی۔ واقعے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ڈرائیور پر سخت طنز کیا اور گاڑی سے چابی نکالنے کی ہدایت کی۔
اسلام آباد ہائی وے پر گاڑی نمبر GAT-764 کی وزیراعلیٰ کی گاڑی کے ساتھ ٹکر۔
وزیراعلیٰ نے شدید غصے میں ڈرائیور سے جواب طلبی کی اور چابی تحویل میں لینے کے احکامات دیے، جس پر عینی شاہدین اور ناقدین نے تشویش ظاہر کی۔
سیاسی و سماجی شخصیتوں کی جانب سے اس رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک صوبے کے اعلیٰ آئینی منصب دار کا سڑک پر اس نوعیت کا غیر متوازن رویہ زیب نہیں دیتا۔
واقعے کی ویڈیو اور خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر گرم جوشی سے بحث جاری ہے، جہاں ایک طرف وزیراعلیٰ کی سخت لہجے میں گفتگو کی مذمت کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ان کے حامی گاڑی کی ٹکر کو سیکیورٹی کی غفلت قرار دے رہے ہیں۔













