ہمارے عدالتی اور قانونی نظام میں بااثر اور اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ریلیف کے حصول اور غیر معمولی راستے بنائے جانے کا معاملہ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے۔ جب قانون کے نفاذ کی باری آتی ہے تو عام شہریوں اور اشرافیہ کے لیے رویوں کا تضاد اکثر بڑے تنازعات کو جنم دیتا ہے، جیسا کہ ایمان مزاری کے مختلف مقدمات اور عدالتوں سے ملنے والے ریلیف کے دوران دیکھنے میں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت، 17 ستمبر تک ملتوی
اس حوالے سے سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور سابق جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی ایک پروگرام میں کی گئی گفتگو کا کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے خود اپنے ایک پرانے فیصلے پر کھل کر اعتراف کیا:
’ایمان ہی تھی جس کے خلاف تاریخ میں پہلی دفعہ جی ایچ کیو نے ایف آئی آر کاٹی تھی، لیکن اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ ہی تھی، میں سمجھتا ہوں کہ میں نے غلط غیر قانونی کام کیا، میں رٹ جورسڈکشن میں اس کو ہزار روپے کی بیل نہیں دے سکتا تھا‘۔
https://x.com/UmarCheema1/status/2099881331270545451
اس پوری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی عمر چیمہ نے اپنے ٹوئٹر بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ: ’اطہر من اللہ صاحب بتا رہے ہیں کہ جی ایچ کیو نے شکایت کے ازالے کے لیے جب پہلی دفعہ قانونی راستہ اختیار کیا (ایمان مزاری نے جنرل باجوہ بارے غلط زبان استعمال کی اور جی ایچ کیو نے ایف آئی آر کرا دی) تو انہوں نے بحیثیت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ غیر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے جی ایچ کیو کا قانونی راستہ روک دیا (ایمان کی ایک ہزار مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی جس کا موصوف کے پاس اختیار نہیں تھا)، دوسرے الفاظ میں جی ایچ کیو کو یہ سبق پڑھایا کہ آپ غیر قانونی ہتھکنڈوں پر واپس چلے جائیں قانون کی طرف آئینگے تو ہمیں آگے بیٹھا پائیں گے‘۔













