امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو ’بھتا ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے اور ملک میں مہنگائی کے موجودہ حالات میں حکومت عوام سے مزید ٹیکس وصول کرنے کے بجائے اپنے اخراجات اور عیاشیاں کم کرے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاجی مارچ کل کراچی سے شروع ہوگا، جس میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا کوئی جواز نہیں، عوام پہلے ہی مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور 2 وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کی میڈیا ٹاک
واضح مطالبہ ہے لیوی کو ختم کیا جائے۔ یہ بھتہ ٹیکس اسی لیے لیتے کہ اپنی کرپشن کو چھپایا جائے
وفاقی حکومت کے اخراجات ایک ٹریلین سے بڑھ چکے ہیں
حکومت اپنے اخراجات میں 30 فیصد اضافہ کرتی ہے،عوام سے قربانی مانگتے ہیں
لیوی کے علاوہ کئی طرح کے ٹیکسز بھی… pic.twitter.com/2oc5w1clQz
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) September 19, 2026
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت لیوی کے ذریعے اپنی نااہلی اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس کے لیے بار بار عالمی مالیاتی فنڈ کا نام لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے نہیں کیے جارہے، وفاقی ادارہ محصولات کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے مسائل کا شکار ہے، جبکہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی عہدیدار بڑی گاڑیوں، سرکاری طیاروں، مفت پیٹرول اور دیگر مراعات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، لیکن عوام سے مسلسل قربانی مانگی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پہلے اپنے اخراجات میں کمی اور غیرضروری مراعات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی کے دھرنے جاری، حکومت سے پیر کو مذاکرات ہوں گے، حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں، جبکہ حکومت اپنے اخراجات میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ کر رہی ہے اور دوسری جانب عوام سے مزید قربانی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرول کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مختلف مدات کے تحت بھاری رقم شامل کی جاتی ہے، جن میں کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر محصولات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ڈیلر کے چارجز، ٹرانسپورٹیشن اخراجات، ریفائنری اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجنز بھی قیمت کا حصہ بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مارجنز میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی گنجائش موجود ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ایک معاملہ یہ سامنے آیا کہ درآمد شدہ اور مقامی تیل کے لیے ایک ہی قیمت وصول کی جارہی تھی، حالانکہ دونوں کی لاگت میں فرق موجود ہوتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی، حکومتی اخراجات میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت یقینی بنانی چاہیے۔














